رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 43
43 69 غالبا اکتوبر 1915ء فرمایا : تھوڑی مدت ہوئی میں نے بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رویا میں مجھے مسئلہ نبوت سمجھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ السلام کو بطور مثال و نمونہ نبی بتایا۔الفضل 21 اکتوبر 1915ء صفحہ 5 70 غالباد سمبر 1915ء فرمایا : ایک سال کا عرصہ ہوا مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک شخص محمد احسن نامی نے قطع تعلق کرلیہ ہے۔ذکر الہی صفحہ 15 تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1916ء) +1917 1915 71 فرمایا : قریباً بیس سال کی بات ہے میں نے رویا * میں دیکھا کہ میں ایک نہر پر کھڑا ہوں اور اس کے اردگرد بہت سبزہ زار ہے۔جیسے انسان بعض دفعہ نہر پر سیر کے لئے جاتا ہے اور لطف اٹھاتا ہے اسی طرح میں بھی نہر پر کھڑا ہوں۔اس کا پانی نہایت ٹھنڈا اور اس کے چاروں طرف سبزہ ہے کہ اسی حالت میں یکدم شور کی آواز آئی جیسے قیامت آجاتی ہے۔میں نے اوپر کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا نہر ٹوٹ کر اس کا پانی تمام علاقہ میں پھیل گیا ہے اور سرعت سے بڑھتا چلا جا رہا ہے پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی اس قدر بڑھا کہ سینکڑوں گاؤں غرق ہو گئے۔میں یہ نظارہ دیکھ کر سخت گھبرایا اور میں نے چاہا کہ واپس لوٹوں تاپانی میرے قریب نہ پہنچ جائے مگر ابھی میں یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے چاروں طرف پانی آگیا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ نہر کا بند ٹوٹ گیا اور میں بھی نہر کے اندر جا پڑا جب میں نہر کے اندر گر گیا تو میں نے تیرنا شروع کیا یہاں تک کہ میلوں میل تیر تا چلا گیا مگر میرا پاؤں کہیں نہ لگا۔آخر جب سینکڑوں میل دور نکل گیا تو میں گھبرانے لگا اور میں نے کہا معلوم نہیں اب کیا ہو گا۔یہاں تک کہ میں تیرتے تیرتے قریباً پنجاب اس رؤیا کے متعلق حضور فرماتے ہیں " یہ 1915 ء سے 1917 ء تک کے کسی سال کی بات ہے جب مجھے خلیفہ ہوئے ایک سال یا دو سال یا تین سال ہی ہوئے تھے " المصلح کراچی 23 - ستمبر 1953ء