رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 458

458 بھی مٹادیں گے۔ایک غیر احمدی کے لئے تو یہ یکساں بات ہے وہ کہے گا ان کا نام بھی مٹ جائے اور ان کا نام بھی مٹ جائے مگر کم سے کم جو ہماری جماعت میں داخل ہو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام مٹ نہیں سکتا اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام مٹ نہیں سکتا تو اس قسم کا فتنہ میرے کام کے متعلق بھی پیدا نہیں کیا جا سکتا بہر حال یہ ایک اہم رویا ہے جو جماعت سے بہت زیادہ تعلق رکھتی ہے۔الفضل 22۔جولائی 1950ء صفحه 4 نیز دیکھیں۔الفضل 28 اپریل 1957ء صفحہ 6 جون 1950ء 503 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ لیکچر دینے لگا ہوں خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ وہ جگہ کوئٹہ میں ہے مگر میرا رخ قبلہ کی طرف ہے اور لوگ میری طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں اس وقت مجھے کچھ ایسے لوگ بھی معلوم ہوتے ہیں جن کے متعلق رویا میں میں سمجھتا ہوں کہ وہ غیر احمدی ہیں۔اس رویا کا مضمون بہت ہی لطیف تھا مگر افسوس ہے کہ اس کا بہت سا حصہ یاد نہیں رہا مگر جو اصل نکتہ میں نے خواب میں بیان کیا وہ مجھے یاد رہ گیا ہے اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے انسان جب بھی چاہے مضمون تیار کر سکتا ہے۔میں رویا میں تقریر کرتے ہوئے بیان کرتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور خداتعالی کا جو باہمی تعلق تھا وہ عاشقوں کا سا بھی نظر نہیں آتا اور معشوقوں کا سا بھی نظر نہیں آتا مگر وہ رقیبوں کا سا نظر آتا ہے۔قریب قریباً ایسا ہی فقرہ تھا جو میں نے استعمال کیا اور یہ الفاظ مجھے اچھی طرح یاد ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالی کا جو باہمی تعلق تھا وہ عاشقوں کا سا بھی نظر نہیں آتا اور معشوقوں کا سا بھی نظر نہیں آتا بلکہ رقیبوں کا سا نظر آتا ہے یعنی وہ عاشق ہیں جو ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے عشق کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں پھر میں آگے تشریح کرتا ہوں کہ رقیب سے مراد کیا ہے اور میں کہتا ہوں جب کوئی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں اور وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کا بڑا عاشق ہوں تو معا اللہ تعالیٰ دوسری طرف سے کوئی ایسی بات کرتا ہے جس سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ عاشق ہوں گویا ایک رقابت ہے جو آپس میں