رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 459
459 جاری ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں خد اتعالیٰ کا بڑا عاشق ہوں اور اللہ تعالیٰ یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا عاشق ہوں گویا عشق کے لحاظ سے ایک رقابت جاری ہے اور دونوں اپنے عشق کو زیادہ سے زیادہ ثابت کرنا چاہتے ہیں پھر میں اس کی مثال دیتا ہوں، رویا میں میں نے دو مثالیں دی ہیں مگر مجھے ایک یا د رہ گئی ہے اور دوسری بھول گئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ میں نے بہت سی مثالیں سوچی ہوئی ہیں جن کو آگے بیان کروں گا بہر حال میں نے اس کی مثال یوں بیان کی کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکلے تو مکہ سے نکلنے کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہ تھی کہ مکہ والے آپ کو اللہ تعالیٰ کی توحید پھیلانے نہیں دیتے تھے یوں مکہ آپ کا وطن بھی تھا آپ کو پیارا بھی تھا مقدس مذہبی مقامات بھی وہیں تھے جن سے آپ کے خاندانی تعلقات تھے مگر ان سب چیزوں کے باوجود آپ نے مکہ چھوڑ دیا۔اور اس طرح آپ نے اپنے عمل سے ظاہر کیا کہ اے خدا مجھے تجھ سے اتنی محبت ہے کہ جس جگہ تیری توحید کو پھیلانے کی مجھے اجازت نہیں ملتی میں اس جگہ میں رہنے کے لئے بھی تیار نہیں اور میں اسے تیری خاطر چھوڑ رہا ہوں پھر میں کہتا ہوں کہ دیکھو آپ کے اس عشق کا ثبوت اس طرح ملتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ٹور سے نکلے اور مدینہ روانہ ہونے لگے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا خدا اس بستی کو ہلاک کرے جس کے رہنے والوں نے خدا کے رسول کو دکھ دیا اور اسے اپنے وطن سے نکال دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا ابوبکر ایسا مت کہو اور پھر آپ نے مکہ کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے فرمایا اے مکہ ! تو مجھے بہت ہی پیارا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ تجھ کو چھوڑوں لیکن تیرے بسنے والوں نے مجھے یہاں رہنے کی اجازت نہیں دی۔اس اجازت نہ دینے کا مطلب یہی تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم خدائے واحد کی پرستش کرنا چاہتے تھے اور اس کی توحید لوگوں میں پھیلانا چاہتے تھے مگر مکہ والوں نے آپ پر ظلم کیا اور انہوں نے آپ کو اپنے شہر میں سے نکال دیا میں نے اس وقت تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مکہ سے نکلنا یقیناً خدا تعالیٰ کی خاطر تھا اور آپ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے عشق کے ثبوت میں ہی وہاں سے نکلے حالانکہ مکہ آپ کو تمام شہروں سے زیادہ عزیز تھا اور آپ کے دل میں اس شہر کی جو عظمت تھی اس کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ باوجود اس کے کہ