رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 456

456 یہاں تو میں لیٹا ہوا ہوں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔یہ نظارہ جو میں نے دیکھا ہے کچھ عجیب قسم کا ہے قادیان میں اپنی موجودگی کا نظارہ تو میں نے بہت دفعہ دیکھا ہے مگر یہ نئی قسم کا نظارہ ہے کہ قادیان میں ہوتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم باہر ہیں اور ہم آپس میں اس طرح باتیں کر رہے ہیں جس طرح قادیان سے باہر ہونے والے کرتے ہیں اس میں بعض وفات یافتہ لوگوں کا آنا اور تائی صاحبہ کا یہ کہنا کہ میں اپنی موت سے تین چار مہینے پہلے قادیان ضرور چلی جاؤں گی شاید اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس رویا میں بعض وجودوں کے متعلق یہ خبر دی گئی ہے کہ شاید وہ قادیان جا کر فوت ہوں گے۔الفضل 22۔جولائی 1950ء صفحہ 4-3 جون 1950ء 502 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک اشتہار ہے جو کسی شخص نے لکھا ہے جو مجھے خواب کے بعد یا د رہا ہے مگر میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا۔صرف اتنابتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ اشتہار ہمارے کسی رشتہ دار نے دیا ہے مگر اس کی رشتہ داری میری بیوی کے ذریعہ سے ہے اس اشتہار میں میرے بعض بچوں کے متعلق تعریفی الفاظ ہیں اور ان کی بڑائی کا اس میں ذکر کیا گیا ہے۔میں رویا میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض ایک چالا کی ہے در حقیقت اس کی غرض جماعت میں فتنہ پیدا کرنا ہے اگر کوئی غیر کی تعریف کرے تو وہ سمجھتا ہے کہ جماعت میں بیداری پیدا ہو جائے گی یا مجھے خیال آجائے گا کہ اس ذریعہ سے جماعت میں فتنہ پیدا کیا جا رہا ہے اور میں اس کو روکنے کی کوشش کروں گا لیکن اگر میرے بعض بچوں کا نام لے کر ان کی تعریف کی جائے تو تعریف کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح میری توجہ اس کے فتنہ کی طرف نہیں پھیرے گی اور میں یہ کہوں گا کہ اس میں تو میرے بیٹوں کی تعریف کی گئی ہے اس میں فتنہ کی کونسی بات ہے اسی نقطہ نگاہ سے اس نے اشتہار میں میرے بعض بیٹوں کی تعریف کی ہے لیکن رویا میں میں کہتا ہوں کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا۔چاہے تم کتنے ہی چکر دے کر بات کرو۔ظاہر ہے کہ تم جماعت میں اس سے فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہو اور تمہاری غرض یہ ہے کہ میں بھی دنیا داروں کی طرح اپنے بیٹوں کی تعریف سن کر خوش ہو جاؤں گا اور اصل بات کی طرف میری توجہ نہیں پھرے گی پس رویا میں میں نے اس