رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 455
455 ربودگی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے وہ ربودگی کی حالت میں شمال کی طرف منہ کر کے کھڑی ہو ئیں اس طرف دیکھ رہی ہیں جدھر ان کا مکان ہے۔میں بھی باہر نکل کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا اتنے میں مریم صدیقہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے بیان کیا کہ مجھے کچھ زنانہ تکلیف محسوس ہو رہی ہے (انہیں واقعہ میں کچھ زمانہ تکالیف رہتی ہیں) میں نے انہیں عارضی علاج بتایا کہ ایسا کر لو۔مگر وہ یاد نہیں رہا۔اس کے بعد ام متین (حضرت سیدہ مریم صدیقہ۔ادارہ) بعض عورتوں کو اپنے ساتھ لے کر اس کمرہ کی طرف چلی گئی ہیں جو چھوٹی مسجد کی طرف جاتے ہوئے رستہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اتنے میں تائی صاحبہ میری طرف مڑیں اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگیں کہ ہماری امتہ الحی کہاں گئی۔میں خواب میں حیران ہو تا ہوں کہ امتہ المی کون ہے ؟ اور ان سے دریافت کرتا ہوں کہ کون امتہ الحی؟ اس پر وہ کہتی ہیں یہی روشن دین کی پوتی جیسے وہ روشن دین کی پوتی اور ان کی کچھ رشتہ دار ہے۔اس وقت میرا ذہن بابو روشن دین صاحب مرحوم صحابی سیالکوٹ مدفون بہشتی مقبرہ کی طرف گیا کہ ان کی مراد اس سے ہے۔اس کے والد بشیر احمد صاحب اس وقت کراچی میں ملازم ہیں اس نے میری بچی امتہ النصیر کے ساتھ غالبا دودھ پیا ہوا ہے اور ان کے باہم تعلقات ہیں۔اس وقت میں حیران ہو تا ہوں کہ امتہ الحی سے ان کے اتنے گہرے تعلقات کس طرح ہو گئے ہیں۔پھر وہ کہتی ہیں اس نے قادیان میں مجھے اپنا لڑ کا دکھایا نہیں اور اب دکھایا ہے گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ عزیزہ امتہ الحی کے ہاں قادیان میں لڑکا ہو ا تھا گوفی الواقع اس کی شادی چند ماہ ہوئے بابو اکبر علی صاحب مرحوم کے ایک لڑکے سے ہوئی ہے اور اب تک کوئی بچہ نہیں ہوا اتنے میں میں نے دیکھا کہ وہاں ایک چارپائی بچھی ہوئی ہے چونکہ رات کا وقت ہے میں اس پر لیٹ گیا ابھی مجھے لیٹے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اندھیرے میں تائی صاحبہ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہیں کہ لاؤ میں دیکھوں میں خواب میں ان کے اس فقرہ سے گھبرا سا گیا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اندھیرے میں انہیں غلط فہمی ہوئی ہے انہوں نے مجھے مریم صدیقہ سمجھ لیا ہے چونکہ مریم صدیقہ نے یہ کہا تھا کہ میں کچھ بیمار ہوں اور مجھے زنانہ تکلیف ہے اس لئے جس طرح عام طور پر عورتیں یہ خیال کیا کرتی ہیں کہ زنانہ تکالیف کی زیادہ وجہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ناف پڑ جاتی ہے اس طرح وہ کہتی ہیں آؤ میں ناف ٹول کر دیکھوں کہ کہیں ٹیڑھی تو نہیں ہو گئی اس پر میں انہیں کہتا ہوں پھوپھی صاحبہ یہاں مریم صدیقہ نہیں۔