رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 41

41 66 $1915 فرمایا : ہمارے ایک دوست ہیں ان کا نام میں نہیں لیتا وہ ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے کہ انہوں نے خط میں لکھا۔احمدیت کے متعلق فلاں فلاں بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔اس کے بعد میں نے رویا میں دیکھا ایک تخت بچھا ہوا ہے جس پر میں نے ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔پھر دیکھا کہ آسمان سے ایک نور ان کے قلب پر گر رہا ہے اور وہ ذکر الہی کر رہے ہیں۔یہ اس وقت کا خواب ہے جب کہ وہ ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے اور سلسلہ کے کاموں میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا تھا اس کے بعد خدا نے انہیں سلسلہ میں داخل ہونے کی توفیق بخشی اور ان کو سلسلہ کے کاموں میں حصہ لینے کے بہت سے موقعے ملے۔الفضل 11 دسمبر 1925 ء صفحہ 7 مزید دیکھیں۔الفضل 7 جنوری 1934ء 5 و 6۔اگست 1941ء صفحہ 3 اور رپورٹ مجلس شور کی 1937ء صفحہ 78 اور الموعود ( تقریر جلسہ سالانہ 28۔دسمبر 1944ء) صفحہ 119 10 ستمبر 1915ء 67 فرمایا : میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے جس سے مجھے بہت سرور ہوا اور رات کو میں نے اٹھ کر سب گھر والوں کو جگا دیا کہ نفل پڑھو اور اس کے بعد میں بھی نہیں سویا۔وہ خواب یہ ہے کہ مجھ سے حضرت مسیح موعود نے پوچھا کہ تم نے نبوت کے متعلق کیا دلائل دیئے اور لوگ سن کر کیا کہتے ہیں چڑتے تو نہیں۔تو انہیں میں نے کہا لوگ اچھی طرح سنتے ہیں اور دلائل بھی بتائے جو آپ نے بہت پسند کئے اور خوش ہوئے۔پھر میں نے ان لوگوں کی نسبت بتایا کہ کس طرح مخالفت کرتے ہیں۔یہی باتیں کرتے ہوئے شیخ رحمت اللہ صاحب آئے اور انہوں نے آکر مجھ سے مصافحہ کیا میں نے ان سے کہا آپ بھی آج ہی حضرت مسیح موعود کو دیکھ کر ملنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا آپ بھی تو آج ہی ملے ہیں اس گفتگو پر حضرت صاحب نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھایا اور کہا کہ شیخ صاحب ہیں لیکن شیخ رحمت اللہ صاحب نے اپنا حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین مراد ہیں۔آپ نے 1915ء میں احمدیت قبول کی (مرتب)