رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 42

42 ہاتھ پیچھے کو ہٹا لیا اور مصافحہ نہیں کیا۔اس پر منہ موڑ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اشارہ فرمایا کہ اس کو نکال دو یہ دیکھ کر مرزا خدا بخش نے شیخ صاحب کو کہا کہ تم پر بڑا ظلم ہوا ہے اور ان سے لپٹ گئے اس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہیں تم بھی میرے مریدوں میں ہو پھر دونوں کو نکالنے کا اشارہ فرمایا جس پر دونوں کو پکڑ کر نکال دیا گیا۔پھر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود ایک مکان میں ہیں اور اس جگہ فوجی پہرہ ہے اور بینڈ باجا بج رہا ہے۔بڑی شان و شوکت اور رونق ہے۔میں نے آپ سے کہا حضور شروع میں تو مجھے بڑا فکر تھا کہ یہ بڑے بڑے آدمی نکل گئے ہیں اب کیا ہو گا لیکن خدا تعالیٰ نے خود ہی سب کام کر دیا اور میری کیا حیثیت ہے میرے سب کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے اور اس پر سخت رقت طاری ہوئی اور آنکھ کھل گئی۔الفضل 23۔ستمبر 1915ء صفحہ 9 و 10 - الفضل 10 مئی 1944 ء صفحہ 6 68 ستمبر 1915ء فرمایا : گذشتہ ستمبر میں میں نے ایک رویا دیکھی تھی جو یہاں کے لوگوں کو اسی وقت بتادی گئی تھی کہ قادیان میں سخت تپ ہو گا جو اپنے اندر طاعون کی طرح کا زہر رکھتا ہو گا۔چونکہ خدا تعالٰی نے ہماری جماعت کے متعلق طاعون سے حفاظت کرنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے اس لئے اس کو تپ سے بدل دے گا کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماریاں اور جانوں اور مالوں کا اختلاف بھی مومنین کے متعلق سنت اللہ ہے اس لئے خدا تعالٰی نے چونکہ طاعون سے محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے اس کی بجائے آپ نازل کرے گا تا کہ اس طرح کرنے سے نہ تو اس وعدہ کے خلاف ہو اور نہ وہ غلط ٹھہرے اور نہ ہی قرآن کریم کی بیان کردہ سنت کے خلاف ہو۔یہ رویا میں نے انہی دنوں لوگوں کو سنادی تھی اس کے بعد ایسا تپ آیا کہ قریباً ہر ایک مرد و عورت پر اس کا حملہ ہوا اور جس گھر کے آٹھ آدمی تھے وہ آٹھوں ہی بیمار ہو گئے اور اس قدر شدید بخار ہوتا کہ ایک سو سات درجہ تک پہنچ جاتا۔ان دنوں ہر گھر میں بیماری پڑ گئی اور اس مرض کی وجہ سے کام کرنے والے لوگ بھی یا تو خود بیمار رہے یا بیماروں کے تیمار دار بنے رہے۔ذکر الہی صفحہ 16 تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1916ء) نیز دیکھیں الفضل 22 اگست 1916 ء صفحہ 8