رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 380

380 خیال آیا کہ میرے اوپر تو ٹھنڈا کوٹ تھا وہ کہاں گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ گرمی کا موسم ہے کیونکہ خواب میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں نے ٹھنڈا کوٹ پہنا ہوا تھا وہ کہیں رہ گیا ہے اور اس کی جیب میں تین ہزار روپے تھے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ کوٹ وہیں رہ گیا ہے جہاں سے ہم نکل کر آئے ہیں پھر میں خیال کرتا ہوں کہ تمام روپے تو اس کوٹ میں رہ گئے ہیں اب خرچ کہاں سے لائیں گے۔میں نے سوچا کہ کسی آدمی کو بھیجوایا جائے جو کوٹ لے آئے۔ہو سکتا ہے کہ دشمن کو اس کوٹ کا خیال نہ آیا ہو یہ خیال کر کے میں نے بہت سے دوستوں کو کہا (وہ دوست سینکڑں اور ہزاروں کی تعداد میں نہیں بلکہ چالیس پچاس کے درمیان معلوم ہوتے ہیں) کہ جان کو خطرے میں ڈالنے کا معاملہ ہے اس لئے اگر کوئی دوست اس جگہ واپس جا کر کوٹ لانے کو تیار ہو تو وہ اپنے آپ کو پیش کرے میں نے دو تین دفعہ یہ کہا مگر کوئی نوجوان کھڑا نہ ہوا۔آخر ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کھڑے ہوئے اور وہ کہتے ہیں کہ میں جا کر کوٹ لاتا ہوں میں خیال کرتا ہوں کہ یہ بھاگ دوڑ کا کام ہے اور ڈاکٹر صاحب کی عمر ساٹھ برس کی ہے۔کمزور آدمی ہیں اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کی نظر بھی کمزور ہے اور کچھ اندھیرا سا ہے جیسے صبح یا شام کے وقت کسی قدر اندھیرا ہوتا ہے اس لئے ڈاکٹر صاحب کا اکیلا وہاں جانا مناسب نہیں۔میرے دل میں یہ خیال آیا ہی تھا کہ بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی میرے پاس آگئے اور کہا کہ میں بھی ان کے ساتھ جاتا ہوں میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی کو ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بھیج دینا چاہئے پھر خیال آیا کہ کوٹ لٹکایا کہاں تھا اور اپنی بیوی مریم صدیقہ سے پوچھا کہ میں نے کوٹ لٹکا یا کہاں تھا۔وہ کہتی ہیں کہ سرہانے کی طرف جو کھونٹی ہے اس کے ساتھ لٹکایا تھا۔میں باہر آتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کھڑا یہ کہہ رہا ہے کہ فوج نے لوٹ مار شروع کر دی ہے اور بہت سے لوگ مارے جارہے ہیں۔اس کی یہ بات سن کر مجھے خیال آیا کہ ہمارا گزارا تو کسی نہ کسی طرح ہو ہی جائے گا یہ دو قیمتی جانیں کیوں خطرہ میں ڈالی جائیں پھر میں میاں شریف احمد صاحب کے پاس جاتا ہوں کہ ان سے مشورہ کروں کہ آیا اس صورت میں ان دو آدمیوں کا بھیجوانا درست ہو گایا نہیں۔میں نے جب ان سے مشورہ پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ اگر بچہ ایسی جگہ پھنس جائے تو اس کو نکالنا بہر حال ضروری ہوتا ہے میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے ان سے روپے کا ذکر کیا ہے اور یہ بچے کا ذکر کرتے ہیں کہیں میرا کوئی بچہ تو پیچھے نہیں رہ گیا۔