رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 381
381 اس وقت میرے دل میں میری چھوٹی لڑکی امتہ الجمیل کا خیال آیا کیونکہ چھوٹے بچوں میں سے وہی ہے جس کی والدہ فوت ہو چکی ہے اس لئے مجھے اس کا بہت خیال رہتا ہے ، میاں شریف احمد صاحب کی یہ بات سن کر میں گھبرا کر اندر جاتا ہوں کہ میرا کوئی بچہ تو پیچھے نہیں رہ گیا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔حضور نے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا ” معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس شورش میں جو آج کل ہندوستان میں ہے خدانخواستہ فوج کے کسی حصہ میں بھی گڑ بڑ پیدا ہو۔یہ فساد پھیل جانے کا اندیشہ ہے۔ہمیشہ پہلے تو فسادات ایک محدود حد تک ہوتے ہیں لیکن پھیلتے پھیلتے وہ فوجوں میں چلے جاتے ہیں اور یہ حالت ملک کے لئے نہایت خطرناک ہوتی ہے۔یہ پہلی دفعہ ہے کہ میں نے فوج کو بھی فسادات میں ملوث دیکھا ہے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔الفضل 12۔اپریل 1947 ء صفحہ 1-2 17/16۔اپریل 1947ء 421 فرمایا : دو دن ہوئے میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا ( یعنی سولہ سترہ اپریل کو) وہ میں دوستوں کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں میں نے دیکھا کہ میں ایک کوٹھے پر ہوں مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں۔میں نیچے اترنے کے لئے سیڑھیوں کی طرف گیا میں جب سیڑھیوں سے اتر رہا ہوں اس وقت میں نے سیڑھیوں میں ایک شخص کو دیکھا وہ مجھے منافق معلوم ہوتا ہے کیونکہ جب میں نیچے اترنے لگا تو اس نے ایک دوسرے آدمی کو آواز دی کہ گرا دو۔یا یہ کہا کہ دھکا دے دو مگر میں نے اس کی پرواہ نہ کی اور سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔میں نے دیکھا کہ ایک برآمدے میں رسی باندھ کر اس پر پر وہ لٹکایا گیا ہے اور پر وہ کے دوسرے طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف رکھتے ہیں اور لوگ ملاقات کر رہے ہیں۔میں نے ذرا سا پردہ ہٹایا تو مجھے آپ کی شکل نظر آئی مگر میں نے اس وقت اندر داخل ہو نا مناسب نہ سمجھا کیونکہ میں نے خیال کیا کہ پہلے یہ لوگ ملاقات کر لیں۔میں بعد میں مل لوں گا یہ سوچ کر میں آگے بڑھ گیا میں نے دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم ہے ان میں سے کچھ لوگ روسی معلوم ہوتے ہیں اور کچھ تاشقند کے رہنے والے۔کسی شخص نے مجھے ان کا تعارف کرانا شروع کیا اور کہا یہ فلاں ملک کے لوگ ہیں اور یہ فلاں ملک کے باشندے ہیں اس کے بعد میں اور آگے