رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 368

368 میرا تو نہیں " اور خواب میں میں بہت خوش ہوتا ہوں کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سید ھے اس گھر میں داخل ہو جائیں گے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب کی ایک تعبیر تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ چونکہ ظاہر لحاظ سے جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کے لئے یہاں مکانوں کی قلت ہے اس لئے اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں پر دروازے بند کرتا ہے گویا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دروزاے بند کرتا ہے۔اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کے لئے دروازے کھولتا ہے گویا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اپنے گھر کے دروازے کھولتا ہے۔الفضل 25۔دسمبر 1946 ء صفحہ 1 دسمبر 1946ء 415 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے گھر کی طرف واپسی ہو رہی ہے میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں ہم وہاں سے گھر کی طرف چلے ہیں جس جگہ ہم چل رہے ہیں وہ کوئی باقاعدہ سڑک نہیں ہے بلکہ پگڈنڈی سی ہے جیسے مٹی ڈال کر راستہ بنایا ہوتا ہے وہ راستہ دو قسموں میں تقسیم ہے۔تھوڑی سی پگڈنڈی ایک طرف ہے اور تھوڑی سی پگڈنڈی دوسری طرف ہے اس کے بیچ میں درخت لگے ہوئے ہیں اور کسی کسی جگہ دیوار اور باڑی ہے جب ہم چلے ہیں تو ہمارے ساتھ کچھ غیر احمدی پٹھان ہیں اور کچھ احمد ی ہیں ہم جس سڑک پر چلے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کہیں دیوار ہے اور کہیں باڑ ہے دونوں راستوں میں حد فاصل چلی جاتی ہے۔میں نے ایک راستہ پر کچھ احمدیوں کو چلنے کے لئے کہا اور خود دوسرے راستہ پر چلنے لگا جس راستہ پر میں چلا اس پر ہی غیر احمدی بھی ہیں جو پٹھان معلوم ہوتے ہیں۔میرے ساتھیوں میں بھی کچھ پٹھان ہیں جب ہم چلے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان غیر احمدی پٹھانوں نے احمد می پٹھانوں کو کندھے مار کر صف میں سے باہر نکالنا چاہا ہے۔میں سمجھتا