رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 344

344 بیاہی ہوئی تھیں اور بھوپال کا شاہی خاندان ان کا معتقد تھا۔یہ محض جاگنے کے بعد کے خیالات ہیں ممکن ہے یہ میری تعبیر درست نہ ہو اور اس سے زیادہ اہم معاملے کی طرف اس میں اشارہ کیا گیا ہو مگر بہر حال موجودہ زمانہ میں چونکہ ہندوستان کے لئے ایک نازک دور آرہا ہے اور مسلمانوں کی ہستی خطرہ میں پڑ رہی ہے میں نے اس خواب کی یہی تعبیر کی اور یہ جو دوسرے ملکوں کے مسلمان بادشاہ دکھائے گئے ہیں میں نے ان کی یہ تعبیر کی کہ شاید ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی نجات کے لئے ایک بین الاقوامی اتحادی سکیم جاری کرنی پڑے گی وَاللهُ اَعْلَمُ بالصواب مگر بہر حال اس رویا نے ہمیں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام کے لئے ایک نہایت ہی نازک دور آ رہا ہے اور مسلمانوں کو دنیوی اور سیاسی معاملات میں اپنے آپ کو متحد کر لینا چاہئے اور ہر شخص کو دوسرے تمام امور کی نسبت اتحاد کو مقدم کر لینا چاہئے کیونکہ اسی میں مسلمانوں کی نجات ہے یہ نہایت ہی مشکل بات ہے آسان بات نہیں۔اس وقت مختلف مسلمان گروہوں کی طبائع میں اس قدر اختلاف پیدا ہو چکا ہے کہ وہ اختلافی مسائل پر زور دیتا زیادہ پسند کرتے ہیں یہ نسبت اتحاد کی کوشش کے۔بحیثیت مجموعی انہیں مسلمانوں کی بہبودی کی اتنی فکر نہیں جتنی ہر پارٹی کو اپنی پارٹی کی فکر ہے۔میں یقین کرتا ہوں کہ اگر اب بھی مسلمان اختلاف پر زور دینے کی بجائے اتحاد کے پہلوؤں پر جمع ہو جائیں تو اسلام کا مستقبل تاریک نہیں رہے گا ورنہ افق سماء پر مجھے سپین کا لفظ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔الفضل 28۔اگست 1946ء صفحہ 1 تا 3 400 5۔ستمبر 1946ء فرمایا : میں نے کل رات ایک رؤیا دیکھا ہے جس میں جماعت کو تبلیغ کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک کمرے میں ہوں اور خواب میں یہی سمجھتا ہوں کہ میں قادیان میں ہوں کمرے میں کچھ لوگ میرے سامنے ہیں اور کچھ لوگ دروازہ میں سے نظر آتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں جماعت کے دوستوں کو جماعت وار تبلیغ کے متعلق ہدایات دے کر تبلیغ کے لئے رخصت کر رہا ہوں۔ایک وفد میرے سامنے آیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ان کو ہندوؤں کی طرف بھیج رہا ہوں۔مجھے یاد ہے اس وقت میں جوش کے ساتھ ان کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جاؤ یہ علاقے ہندوؤں کے ہیں ان میں پھیل جاؤ اور ان کو کہو کہ جس