رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 345

345 او تار کے آنے کی خبر تمہاری کتب میں ہے وہ اوتار آچکا ہے تم اسے مان لو۔اگر نہیں مانو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جاؤ گے تم اب اللہ تعالٰی کو کیا جواب دو گے جبکہ وہ بھی جو اس او تار کا مثیل ہے آگیا ہے اور تمہیں مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ تم اپنی زندگی برباد نہ کرو۔پھر ان سے یہ بھی کہو کہ آنے والا او تار اور اس کا مثیل بھی اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خادم کہتے ہیں پس تم کو محمد رسول اللہ پر ایمان لا کر مسلمان ہونا پڑے گا پھر میں اس وند میں جانے والے دوستوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اب تم جاؤ اور اس تمام علاقے میں چھا جاؤ۔خواب میں میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ اٹھے کر چلے گئے ہیں اور اسی طرح میرے پاس مبلغوں کا ایک تانتا بندھا ہوا ہے جن کو میں مختلف قوموں کی طرف بھیج رہا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس رویا میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر جماعت جلدی کامیاب ہونا چاہتی ہے تو اسے تبلیغ کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا چاہیئے۔الفضل یکم نومبر 1946ء صفحہ 4-3 401 25 ستمبر 1946ء فرمایا : دہلی جاتے ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے لوگ جمع ہیں۔میں ان کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی پر تقریر کر رہا ہوں اور آیت قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : 163) کو لے کر اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہوں اور لوگوں سے کہتا ہوں دیکھو قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے تمام پہلو بیان ہوئے ہیں۔اس کے بعد خواب میں ہی میں کئی دفعہ بیدار ہوا اور سویا مگر جب میں بیدار ہوتا تو دیکھتا کہ میں قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ پڑھ کر تقریر کر رہا ہوں۔اس طرح ساری رات سونے سے اٹھنے تک یہی ہوتا رہا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی پر تقریر کر رہا ہوں مگر میری تقریر قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کے گرد ہی چکر کاٹتی رہتی ہے۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے بیج کے طور پر اس آیت کے مطالب کو میرے قلب میں داخل کر دیا ہے اور جب ضرورت ہوگی وہ اس کے مطالب کو