رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 340

340 کے پاس کھڑا ہی تھا کہ یوں معلوم ہوا وہ لوگ کھانا کھا چکے ہیں اور انہوں نے مجھے ملاقات کے لئے بلوایا ہے۔جو شخص مجھے اطلاع دینے کے لئے نکلا چونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ میں دروازہ کے پاس کھڑا ہوں وہ دروازہ سے نکل کر سیدھا گھر کے اندرونہ کی طرف چلا گیا اس وقت مجھے یوں معلوم ہوا جیسے وہ شخص مولوی سید محمد احسن ہیں۔میں نے تو منہ نہیں دیکھا لیکن پگڑی اور کوٹ وغیرہ ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ پہنا کرتے تھے۔میں نے انہیں تو کچھ نہیں کہا وہ تو اندرونی صحن کی طرف چلے گئے اور میں اندر کمرہ میں گھس گیا جب میں اندر گھسا تو میں نے دیکھا کہ وہاں آٹھ نو آدمی رہ گئے ہیں باقی کھانا کھا کر چلے گئے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ قوموں کے سردار یا بادشاہ ہیں۔ان میں سے ایک شخص بالکل مفتی محمد صادق صاحب کی شکل کا ہے اور دو سرا عربی لباس میں ہے۔اس نے سر پر چھوٹی قسم کی کو فیہ (یعنی عربی قسم کی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دوسرے لوگ بھی مختلف علاقوں کے بادشاہ اور رئیس ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مفتی محمد صادق صاحب اور اس عرب بادشاہ کے درمیان کوئی اتحاد اور صلح کا معاہدہ ہو رہا ہے اور معاہدہ کرانے کے لئے مجھے درمیان میں ثالث کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔میں نے ان دونوں سے باتیں کر کے ایک معاہدہ لکھوایا ہے جس کا مضمون اس قسم کا ہے کہ ہم آپس میں صلح اور اتحاد سے رہیں گے۔یہ معاہدہ جب میں لکھوا چکا ہوں تو میں نے خود پڑھ کر اس مجلس کو سنایا ہے یا جس شخص نے یہ معاہدہ لکھا تھا اس سے سنوایا ہے اور دونوں فریق اس پر متفق معلوم ہوتے ہیں۔قریب تھا کہ وہ لوگ اس معاہدہ پر دستخط کر دیں میں نے دیکھا کہ میری بائیں طرف سے ایک شخص اٹھ کر گول کمرہ کے اس دروازہ کی طرف گیا ہے جو مسجد مبارک کی سیڑھیوں میں کھلتا ہے۔جب وہ اٹھا تو مجھے یوں معلوم ہو ا جیسے وہ حضرت خلیفہ اول ہیں۔اٹھتے وقت انہوں نے ایک فقرہ بولا جس کا مطلب میں نے یہ سمجھا کہ اگر کوئی فریق اس معاہدہ کو توڑے گا تو ہم سب مل کر اس کی مخالفت کریں گے یہ فقرہ سنتے ہی مجھے خیال آیا کہ یہ شرط ضرور لکھنی چاہئے اور میں نے دونوں فریق کو بتایا کہ یہ خیال میرے دل میں پہلے نہیں آیا مگر حضرت مولوی صاحب نے اٹھتے وقت اس طرف اشارہ کیا ہے اور میرے نزدیک یہ ضروری شرط ہے ( خواب میں مجھے یہ خیال آیا کہ خلیفہ اول کا لفظ استعمال کریں مگر پھر مجھے صلح حدیبیہ کا واقعہ یاد آگیا اور میں نے کہا یہ لوگ تو ہماری خلافت کے قائل ہی نہیں یہ لفظ