رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 338
338 تو سہی کہ وہ اتنی مدت رہیں کہاں؟ چنانچہ پھر میں اپنی چارپائی سے اٹھ کر ان کی چارپائی پر چلا گیا اور میں نے ان سے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ تم یہاں سے جانے کے بعد رہیں کہاں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوے دن تو میں ہسپتال میں بیمار پڑی رہی۔پھر میں اپنی اماں کے پاس چلی گئی۔تھا" اس وقت مجھے ان کی والدہ کے متعلق خیال آتا ہے کہ وہ تو فوت ہو چکی ہیں مگر ان کے اس جواب سے کہ میں اپنی والدہ کے پاس گئی تھی میں سمجھتا ہوں کہ شاید میری غلطی ہو گی وہ فوت نہیں ہوئی ہوں گی مگر میں اس کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔اس ڈر سے کہ سارہ بیگم کو اس بات سے صدمہ ہو گا کہ مجھے ان کی والدہ کے متعلق یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا فوت ہو چکی ہیں۔تب میں نے انہیں کہا کہ والدہ کے پاس کتنی دیر ٹھہریں۔انہوں نے جو جواب دیا وہ آہستہ تھا اور میں نے اس میں سے صرف ڈیڑھ کا لفظ سناتب میں نے ان سے کہا ڈیڑھ کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ڈیڑھ گھنٹہ۔میں نے آگے اسے کہا کہ اتنی تم بیمار رہیں۔اور ہم لوگوں سے جدار ہیں تو اپنی اماں کے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ رہیں۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ”دل نہیں لگتا تھا " میں ان کی اس بات سے سمجھا کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ مجھے آپ سے جدا ہوئے دیر ہو گئی تھی اور میرا دل چاہتا تھا کہ جلدی آپ کے پاس آؤں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب کی تعبیر ساری تو میری سمجھ میں نہیں آئی مگر بہر حال مرحومہ کا نام سارہ تھا یعنی خوش ہونے والی۔یہ نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی کا بھی تھا پس میں سمجھتا ہوں کہ اس خواب کی تعبیر بہر حال اچھی ہے۔اس خواب سے میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ شاید جو لوگ زخمی ہو کر فوت ہوتے ہیں یا کسی حادثے سے فوت ہوتے ہیں اگلے جہان میں بھی کچھ عرصہ تک ان کی روح کسی قدر تکلیف پاتی ہے جب تک کہ جسم سے اس کا پورے طور پر انقطاع نہیں ہو جاتا نوے دن ہسپتال میں رہنے کے معنی یہی معلوم ہوتے ہیں کہ تین مہینے تک اس صدمہ کی وجہ سے جو جسم اور روح کی جدائی کی وجہ سے ہوا تھا وہ کچھ تکلیف محسوس کرتی رہیں۔بعض احادیث میں بھی ایسا آتا ہے کہ بعض لوگ مرنے کے بعد چالیس دن بعض تین مہینے اور بعض زیادہ ایک صدمہ کی حالت میں رہتے ہیں یہاں تک کہ روح کو جسم سے جدائی کی عادت پڑ جاتی ہے۔یہ خواب اس لحاظ سے بھی غیر معمولی خوابوں میں سے ہے کہ ساری رات متواتر ایک لمبا