رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 337

337 پہنچے گی۔اس خیال سے میں اس سوال کو دباتا چلا جاتا ہوں پھر میں نے ان سے پوچھا تم رہتی کہاں ہو ؟ تو انہوں نے بتایا وہ اسی مکان میں رہتی ہیں جس مکان میں ام طاہر مرحومہ رہتی تھیں۔در حقیقت وفات کے وقت وہ اسی مکان میں رہا کرتی تھیں گو ہم عارضی طور پر دار الحمد میں گئے ہوئے تھے اور وہیں وہ فوت ہو ئیں۔اس وقت مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ بشری بیگم جو آج کل اس مکان میں رہتی ہیں ان سے بھی ان کی بول چال نہیں۔میں نے ان سے سوال کیا کہ بشریٰ بیگم سے تمہاری بول چال نہیں اس کے جواب میں انہوں نے کہا نہیں ہماری بول چال ہے کئی دفعہ ہم نے باتیں کی ہیں۔اس وقت میرے دل میں یہ بھی خیال آیا کہ اس مکان کا جو نیا حصہ ہے اس کی چھت پر میں ان کے لئے مکان بنوا دوں مگر میرے دل میں اس کے معابعد یہ خیال گزرا کہ میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ خلیل احمد کا مکان وہاں بناؤں۔اگر اب میں نے ان کا مکان بنوایا تو امتہ الحی مرحومہ کو اس سے صدمہ ہو گا اس خیال کے آنے کے بعد میں نے یہ سوچا کہ ام طاہر مرحومہ کے مکان کے شمال کی طرف جو مکان میں نے خریدے ہوئے ہیں اور جہاں کچھ عمارت کے آثار بھی بنائے جاچکے ہیں۔وہاں میں دوسری منزل پر ان کے لئے مکان بنوا دوں۔غرض کبھی باتیں کرتے ہوئے کبھی مختلف باتیں دل میں سوچتے ہوئے ساری رات ہی معلوم ہوتا ہے گذر گئی اور باتیں کرتے ہوئے صبح کی اذان کی آواز مسجد سے آئی۔بہت صاف اور عمدہ آواز اذان کی آرہی تھی کہ کسی شخص نے پائنتی کی طرف سے ہاتھ لمبا کر کے میرے ہاتھ کو پکڑ کے ہلایا اور کہا کہ اذان ہو گئی ہے نماز پڑھ لیں میں نے دیکھا کہ اس شخص نے اپنا منہ میری طرف کیا ہوا ہے تاکہ ہم دونوں کے تخلیہ میں خلل انداز نہ ہو مگر جس ہاتھ نے میرے ہاتھ کو پکڑا وہ مجھے ام طاہر کا ہاتھ معلوم ہوتا ہے پھر اس نے مجھے ایک عورت کا نام لے کر کہا کہ وہ گرم پانی کالوٹا آپ کے لئے لا رہی ہے۔آپ وضو کر لیں۔اس وقت سارہ بیگم اس چار پائی سے اٹھ کر اس کے بالمقابل ایک اور چار پائی پر جو اس سے چھوٹی ہے چلی گئیں وہ چار پائی اس جگہ پر بچھی ہوئی ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی چار پائی ہوا کرتی تھی جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میری چار پائی اس وقت مغربی طرف بیت الدعا کے ساتھ بچھی ہوئی تھی اور یہ چار پائی جس پر سارہ بیگم گئیں مشرق کی طرف تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پلنگ بھی مشرق کی طرف ہوا کرتا تھا۔میں وضو کرنے کے لئے اٹھا تو یکدم میرے دل میں خیال آیا کہ میں ان سے پوچھوں