رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 30

30 سکتا۔اول۔تو یہ کہ حضور کی وفات آپ سے ہوگی۔دوم یہ کہ آپ وفات سے پہلے وصیت کر جائیں گے۔سوم یہ کہ وہ وصیت مارچ کے مہینہ میں شائع ہوگی۔چہارم یہ کہ اس وصیت کا تعلق بدر کے ساتھ ہو گا۔اگر ان چاروں باتوں کے ساتھ میں یہ پانچویں بات بھی شامل کر دوں تو نا مناسب نہ ہو گا کہ اس رویا سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وصیت کا تعلق مجھ سے بھی ہو گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تا تو میری طرف آدمی بھیج کر مجھے اطلاع دینے سے کیا مطلب ہو سکتا تھا۔چوتھی بات کہ بدر میں دیکھ لیں تشریح طلب ہے۔کیونکہ وہ اس وقت بند تھا۔بدراصل میں چودھویں رات کے چاند کو کہتے ہیں پس اللہ تعالی نے رویا میں ایک قسم کے اخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا اور بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہو گا چنانچہ وصیت باقاعدہ طور پر جو شائع ہوئی یعنی اس کے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی تو چودہ تاریخ کو ہی سنائی اور اسی تاریخ کو خلافت کا فیصلہ ہوا۔برکات خلافت صفحه 41 460 ( تقریر جلسہ سالانہ 27 - دسمبر 1914ء) 43 غالبا 1913ء فرمایا : میں نے حضرت خلیفہ اول کے وقت میں دیکھا کہ میں حج کو گیا ہوں جب عدن کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ مجھے تو حج کرنا آتا نہیں۔لوگوں سے پوچھا۔انہوں نے بھی انکار کیا اور کہا کہ ہم نہیں جانتے۔میں لوٹ آیا لیکن راستہ میں ہی ایک جگہ اپنے آپ کو خشکی پر دیکھا اور ایک آدمی سے پوچھا کہ حج کس طرح کرتے ہیں۔اس نے مجھے بتایا کہ یہ تو آسان امر ہے ابن عباس کی قبر کے پاس جا کر احرام باندھ لیتے ہیں اور پھر وہاں سے جا کر حج کر لیتے ہیں مجھے رویا میں احرام باندھنے سے متعلق ہی شبہ ہے) اس کے بعد وہ مجھے ساتھ لے چلا اور میں نے ایک کچا کو ٹھا دیکھا جسے اس نے ابن عباس کی قبر بتایا ہے میں نے وہاں سے احرام باندھا اور حج کیا۔میں نے یہ رویا حضرت خلیفہ اول کو سنائی۔فرمایا الحمد للہ۔پھر پوچھا کہ کچھ سمجھے۔میں نے کہا میں تو نہیں سمجھا۔فرمایا کہ ابن عباس کی قبر طائف میں ہے اور اخبار میں جو آتا ہے کہ مسیح یا مهدی طائف سے احرام باندھے گا اللہ تعالی شاید آپ سے حضرت مسیح موعود کی طرف سے حج کرائے۔