رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 29
29 29 کرا دیا۔ایک دن میں پڑھا رہا تھا کہ میرے دل میں بجلی کی طرح ڈالا گیا کہ آیت رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلاً مِّنْهُمْ (البقرة : (130) سورہ بقرہ کی کلید ہے اور اس سورۃ کی ترتیب کار از اس میں رکھا گیا ہے اسی کے ساتھ ہی سورہ بقرہ کی ترتیب پورے طور پر میری سمجھ میں آگئی۔(منصب خلافت ( تقریر 12 - اپریل 1914ء) صفحہ 7 میں اس راز اور حقیقت کو آج سمجھا کہ تین سال پیشتر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بجلی کی طرح میرے دل میں کیوں ڈالی۔قبل از وقت میں اس راز سے آگاہ نہیں ہو سکتا تھا مگر آج حقیقت کھلی کہ ارادہ الہی میں یہ میرے ہی فرائض اور کام تھے اور ایک وقت آنے والا تھا کہ مجھے ان کی تکمیل کے لئے کھڑا کیا جانا تھا۔منصب خلافت صفحہ 28۔مزید دیکھیں تغیر کبیر جلد اول جزو اول صفحہ 55 42 ستمبر 1913ء فرمایا : 1913ء میں میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریباً دو بجے ہیں۔میں اپنے کمرہ ( قادیان میں بیٹھا ہوں۔مرزا عبد الغفور صاحب (جو کلانور کے رہنے والے ہیں) میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے اٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ ا صحیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سو دو (۱۰۲) کے قریب تپ ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔جب میں نے یہ رویا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کرلوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے جس کے جواب میں حضرت صاحب نے لکھا کہ اچھے ہیں۔یہ رویا میں نے اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنادی۔اب دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے حضرت صاحب کی وفات کی خبر دی اور چار باتیں ایسی بتائیں کہ جنہیں کوئی شخص اپنے خیال اور اندازہ سے دریافت نہیں کر