رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 276

276 طرح آنکھوں کے سامنے گزر گیا جس طرح بھجلی کو ند جاتی ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک عورت ہے جس نے اپنے ہاتھوں پر ایک بچہ رکھا ہوا اور وہ بچہ مردے کی طرح اکڑا ہوا ہے میرے سامنے وہ اس بچہ کو پیش کر کے کہتی ہے اس کو اپنڈے سائٹس ہے اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔میں نے یہ بات سن کر اسے جواب میں کہا ڈاکٹروں نے تو فیصلہ نہیں کرنا ہوتا فیصلہ تو خدا نے کرنا ہوتا ہے میں اس کے لئے دعا کروں گا اور یہ اچھا ہو جائے گا اس کے بعد یہ نظارہ جاتا رہا اور میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا : اس سے میں سمجھتا ہوں یا تو اپنڈے سائنٹس سے کوئی روحانی بیماری مراد ہے اور یا یہ مراد ہے کہ جماعت کے کسی ایسے مریض کو اللہ تعالیٰ میری دعا سے شفا عطا فرمادے گا۔الفضل 7۔مارچ 1945ء صفحہ 2 17 فروری 1945ء 349 فرمایا : 17 فروری کے قریب میں نے خواب میں دیکھا کہ اخبار انقلاب لاہور کا ایک پرچہ میرے ہاتھ میں ہے میں اسے پڑھتا ہوں اس کے ایک صفحہ پر میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ کچھ سطریں لکھی ہوئی ہیں پھر کچھ سطریں اڑی ہوئی ہیں اور پھر ڈیڑھ سطر لکھی ہوئی ہے اس کے بعد کچھ سطریں اڑیں ہوتی ہیں جس طرح کسی مضمون کے بعض حصے سنسر نے کاٹ دیئے ہوں درمیان میں جو سطریں لکھی ہیں میں اسے پڑھتا ہوں تو اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ”امام جماعت احمدیہ نے پنجاب یونیورسٹی کا انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا ہے " یہ خبر پڑھ کر مجھے اپنے نفس پر بہت غصہ آیا اور میں نے دل میں کہا کہ میں نے یہ امتحان کیوں دیا جب مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنا علم دیا ہے اور اتنا بلند مقام عطا کیا ہے تو مجھے انٹرنس کا امتحان دینے کی ضرورت ہی کیا تھی اور میں نے یہ امتحان کیوں دیا۔ایک دو منٹ کے بعد میری غصہ اور انقباض کی حالت دور ہوئی تو میں نے خیال کیا کہ میں نے جب یہ امتحان دیا ہے تو یہ کوئی بیہودہ حرکت نہیں کہ اس میں بھی ضرور اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت مخفی ہو گی اور پھر میں اپنے دل میں کہتا ہوں کہ جب انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا ہے تو اب بی اے کا امتحان بھی دے دوں پھر مجھے خیال آتا ہے کہ بی اے کا امتحان تو ایف اے کا امتحان پاس کئے بغیر نہیں دیا جا سکتا مگر خود ہی دل میں کہتا ہوں کہ یونیورسٹی مجھے بی اے کا امتحان