رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 275

275 سے ہو کر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے ہیں کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ ہیں جن میں سے ایک خواجہ کمال الدین صاحب کے کوئی لڑکے ہیں یہ لوگ میرے پاس آئے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے مجھے السلام علیکم کہا اور میرے ساتھ مصافحہ بھی کیا اس کے بعد انہوں نے کوئی بات کی جو مجھے یاد نہیں رہی۔بہر حال ان کی گفتگو اور مصافحہ کا طریق ایسا تھا جس سے ان کے تعلق کا اظہار ہوتا تھا پھر میں نے ان سے کہا ڈاکٹر صاحب میرا ناک تو دیکھیں مجھے اپنے ناک میں کچھ تکلیف محسوس ہوتی ہے یوں تو مجھے ناک کا کوئی مرض نہیں مگر خواب میں میں سمجھتا ہوں میرے ناک میں کچھ تکلیف ہے۔انہوں نے میرے دائیں نتھنے کو بھی دبایا اور بائیں نتھنے کو بھی دبایا تو مجھے کچھ درد محسوس ہوا اس پر وہ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے یہاں زخم ہے پھر وہ کچھ اور باتیں کرنے لگ گئے اتنے میں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب آگئے اور انہوں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے کہا پھریری میں دوائی لگا کر ناک کے نتھنے میں ڈالیں چنانچہ انہوں نے پھریری کے ذریعہ ناک کے اندر دوائی لگائی اور جیسے نزلہ کے بعد چھیچھڑے وغیرہ اندر جم جاتے ہیں اسی قسم کا کچھ مواد پھریری کے ساتھ لگا ہوا باہر آیا اس کے بعد ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے کہا۔جب اپریشن ہو جائے گا تو انہوں نے ابھی اتنا ہی فقرہ کہا تھا کہ خواب میں میں گھبرا کر کہتا ہوں اپریشن کا کیا کر ہے کیا میرے ناک کا اپریشن ہو گا۔انہوں نے کہا ہاں اس کا اپریشن ہو گا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا اس سے میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کی اولادوں کو ہدایت دے دے گا اور ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ناک کے اندر زخم پائے جانے کے معنے میں یہ سمجھتا ہوں کہ بعض لوگ جو اس مقام پر ہیں کہ ان کا کام یہ ہے کہ وہ جماعت کی خبر گیری کریں اور اس کے اندر کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہونے دیں اور مجھے اس کے حالات سے باخبر رکھیں ان میں سے کسی میں نقص پیدا ہو گا اور پھر اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا اس کے اپریشن کی ضرورت محسوس ہو گی۔اپریشن سے مراد یہ ہے کہ اس کو سزا دینی پڑے گی یا اسے جماعت میں سے نکالنا پڑے گا۔الفضل 7۔مارچ 1945ء صفحہ 1 ت میں سے ؟ 348 7۔فروری 1945ء فرمایا : دو سرا رویا میں نے آج ہی دیکھا ہے اس رویا کا نظارہ نہایت قلیل وقت میں اس