رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 277
277 دینے کی اجازت دے دے گی۔فرمایا : انٹرنس کے معنے ہیں دروازہ کے۔کسی بڑی جلسہ گاہ یا تماشہ گاہ کے بڑے دروازہ کو انٹرنس کہتے ہیں اور میں نے کمیونزم کے متعلق جو لیکچر دیا اس میں پنجاب یونیورسٹی کے طلباء اور پروفیسر کثرت سے شامل ہوئے اور اس طرح ہم گویا پنجاب یونیورسٹی کے حلقوں میں داخلہ میں کامیاب ہو گئے اور اپنے خیالات کامیابی سے ان تک پہنچا دئیے۔رویا کا یہ حصہ جو ہے کہ میں کہتا ہوں اب بی اے کا امتحان بھی دے دوں تو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر ہم اس کوشش کو جاری رکھیں کہ تعلیم یافتہ طبقہ پر سے کمیونزم کا اثر دور ہو جائے تو اس میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔الفضل 14۔مارچ 1944ء صفحہ 6 فرمایا : اس خبر کے اخبار انقلاب میں پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ اسلام کا اقتصادی نظام ایک عظیم الشان انقلاب کے ذریعہ دنیا میں جاری ہو گا۔الفضل 4۔اگست 1945 ء صفحہ 1 350 فروری 1945ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں تقریر کر رہا ہوں ایک بہت بڑا ہجوم میرے گرد ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔میں ان کے سامنے تقریر کر رہا ہوں اور انہیں کہتا ہوں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی نہیں ہیں تو تم کوئی ایک ہی غیر نبی مجھے دنیا میں ایسا تا دو جو اپنے بعد اس قسم کے علماء کی ایک جماعت پیدا کر گیا ہو جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم کڈنی حاصل ہوتا ہو اور جو خدا تعالیٰ کے کلام کو سمجھانے والے ہوں۔میں رویا کی حالت میں اس خصوصیت پر زور دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ نبی کی ہی شان ہوتی ہے کہ وہ اپنے بعد ایسی جماعت قائم کر دیتا ہے جس میں نئی زندگی اور نئی روئیدگی کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھ کر اور خداتعالی سے اس کے کلام کو سیکھ کر دنیا میں پھیلاتی ہے اور اس کی اشاعت کرتی ہے۔یہ تقریر کرنے کے ساتھ ہی سلسلہ کے وہ خدام میرے ذہن میں آتے ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم کو دوبارہ زندہ کیا ہے اور انہوں نے زندہ علوم کے خزانے کے طور پر اسے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس پر میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 9۔مارچ 1945ء صفحہ 1