رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 236
236 کے بعد آپ فرماتے ہیں۔اذکرمی جو نظام کا ابا ہے رویا میں میرا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ آپ از کری کو نظام کا ابا کیوں کہتے ہیں صرف اتنا سمجھتا ہوں کہ اس مصنف کو بھی میں یقینی طور پر جانتا ہوں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔رویا میں میں نے دیکھا کہ آپ نے یہ تمام باتیں بڑی بے تکلفی سے میرے ساتھ کی ہیں۔اس رویا میں پہلی بات میں یہ سمجھا ہوں کہ ہمیں بہائیوں کے خلاف لٹریچر تیار کرنا چاہئے اور اس لٹریچر کی تیاری میں براؤن کی کتابوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور آپ نے یہ جو فرمایا کہ اذکری نظام کا ابا ہے اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ نظام کے ابا سے میں ہی مراد ہوں کیونکہ سلسلہ کا ابا خلیفہ وقت اور امام جماعت ہوتا ہے اور اذکری سے مراد ذکر الہی کی کثرت ہے۔اذکری نام سے میں نے یہ سمجھا کہ ہم میں ذکر الہی کی کثرت ہونی چاہئے اور نظام کے ابا سے مراد چونکہ امام وقت ہے اس لئے رویا میں نظام کے ابا کا نام اذکری رکھنے سے اس امر کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے خود بھی ذکر الہی کثرت سے کرنا چاہئے اور جماعت کو بھی ذکر الہی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔الفضل 18۔جون 1944ء صفحہ 1 - 2 8۔جون 1944ء 302 فرمایا : میں نے آج آٹھ جون 1944 ء رات کو رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ نماز پڑھا رہا ہوں وہ جگہ موجودہ مسجد سے بہت فراخ ہے کچھ لڑکے شور کرتے ہیں اس پر ان میں سے کسی کو غالبا ایک پہرہ دار نے ڈانٹایا شاید کوئی تھپڑ بھی مار دیا اس لڑکے نے شور مچانا شروع کر دیا جس پر پولیس کا ایک افسر آکر تحقیق کرنے لگا۔مگر مجھے دیکھ کر ادب کا طریقہ اس نے اختیار کر لیا اور سامنے بیٹھ گیا اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ مفتی فضل الرحمان صاحب مرحوم عمدہ لباس میں اور جوانی کی عمر میں حتی کہ سب داڑھی سیاہ ہے آکر سامنے بیٹھ گئے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ مفتی صاحب آپ کہاں چلے گئے تھے (خواب میں ان کو وفات یافتہ نہیں سمجھتا) اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں قادیان سے باہر چلا گیا تھا اب آپ فرما ئیں تو قادیان واپس آجاؤں۔میں نے ان سے بڑے زور سے کہا کہ ضرور واپس آجائیں اس پر وہ کہنے لگے کہ میں نے فضل نرس کے لڑکے بشیر احمد سے اپنی لڑکی کی شادی کر دی ہے۔اس پر میں نے تعجب سے کہا کہ وہ تو کچھ آوارہ سالڑ کا ہے