رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 194
194 نقصان نہ پہنچ جائے۔اسی طرح مجھے ایک اور مثال یاد آئی اور میں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا اے عائشہ کعبہ جب بنایا گیا تھا اس وقت تیری قوم کے پاس سامان کم ہو گیا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کعبہ کی چار دیواری جتنی وسیع ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں بلکہ اس سے کچھ کم ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کو اس کی اصل بنیادوں پر لے آؤں مگر میں ڈرتا ہوں کہ تیری قوم حَدِیثُ الْعَهْدِ بِالْإِسْلَامِ ہے یعنی نئی نئی اسلام لائی ہے اگر میں نے ایسا کیا تو اس کے ایمان میں تزلزل واقع ہو جائے گا یہاں بھی آپ نے ڈرنے کا لفظ استعمال فرمایا مگر اس جگہ بھی اس کے یہی معنے ہیں کہ میں ڈرتا ہوں تیری قوم کے ایمان کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔پس میں نے ان سے کہا جو تعریف میں نے پہلے کی ہے وہ نامکمل ہے اب میں اس کی مکمل تعریف یہ کرتا ہوں کہ دلیری یہ ہے کہ انسان خدا کے سوا کسی پر تو کل نہ کرے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1944ء صفحہ 72-73 فرمایا : اب معلوم ہوا کہ اس میں ان کی وفات کی خبر تھی اور اسی رؤیا کے ذریعہ اللہ تعالٰی نے ان کے منہ سے ہی تعزیت کرادی۔الفضل 12۔اپریل 1944ء صفحہ 1 فروری 1944ء 255 فرمایا : میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ ایک بہت بڑا اژدھام ہے جس میں ان (شیخ نیاز محمد صاحب کو ایک ہاتھی پر چڑھا کر لوگ جلوس کی صورت میں شہر کی طرف لا رہے ہیں۔بہت سے مسلمان جمع ہیں اور لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے اور وہ بہت خوش ہیں ان کو کوئی عزت ملی ہے یا ملنے والی ہے۔میں رویا میں دیکھتا ہوں کہ جلوس مفتی محمد صادق صاحب کے گھر کی طرف آرہا ہے میں ان کے گھر کے قریب جو موڑ ہے وہاں کھڑا ہو گیا اور جلوس نے اس طرف بڑھنا شروع کر دیا جس وقت وہ عین منزل مقصود پر پہنچ گئے جہاں ان کا اعزاز ہو نا تھا تو یکدم آسمان سے ایک ہاتھ آیا اور وہ انہیں اٹھا کر لے گیا۔اس رویا کے مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد وہ فوت ہو گئے بعد میں معلوم ہوا کہ ہائی کورٹ کی جھی کے لئے ان کا نام گیا ہوا تھا اور منظوری آنے والی تھی کہ وہ فوت ہو گئے۔الفضل 18۔فروری 3 1944