رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 193
193 جون 1944ء صفحہ 6 و 28 نومبر 1944ء صفحہ 4, 8۔فروری 1959ء صلح 18 و 18 فروری 1958ء صفحہ 8 117 و 26 دسمبر 1981ء صفحہ 9 اور الموعود ( تقریر جلسہ سالانہ 28 -۔"مبر 1944ء صفحہ 6854) جنوری 1944ء 254 فرمایا : میں ابھی لاہور میں تھا کہ موجودہ انکشاف کے چند دن بعد ہی میں نے رویا میں دیکھا کہ میں قادیان میں اپنے گھر میں ہوں اور نیند سے اٹھا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کہ نماز فجر کا وقت ہے اور نماز پڑھنے میں کچھ دیر ہو گئی ہے میں جلدی سے اٹھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے سے پہلے ہی نماز پڑھ لوں کیونکہ دیر ہو رہی ہے مگر جب دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ ابھی اندھیرا ہے۔اس وقت میں نے کہا کہ پہلے حوائج سے فارغ ہولوں پھر اطمینان سے نماز پڑھوں گا اسی حالت میں جب میں نے بیت الخلاء کی طرف جانے والا دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ ساتھ کے کمرے میں ایک کٹرہ کے سامنے میر محمد اسحاق صاحب نہایت صاف ستھرا لباس پہنے ہوئے ہیں مجھے دیکھتے ہی وہ کہنے لگے حضور دلیری کس کو کہتے ہیں۔میں نے ان سے کہا دلیری اس بات کا نام ہے کہ خدا کے سوا انسان کسی سے نہ ڈرے مگر معامیں نے کہا یہ تعریف مکمل نہیں اس لئے کہ حدیثوں میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ گھر میں تشریف رکھتے تھے کہ آپ نے ایک شخص کی برائیاں بیان کرنی شروع کر دیں کہ وہ ایسا ہے۔ایسا ہے۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہی شخص آگیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے اٹھے آپ نے احترام سے بٹھایا اور محبت سے اس کے ساتھ باتیں کیں جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ بھی ایسا کر لیتے ہیں کہ ایک طرف تو بعض لوگوں کے عیوب بیان کریں اور دوسری طرف جب وہ سامنے آجائیں تو ان کی خاطر تواضع کریں۔آپ نے فرمایا اے عائشہ بعض لوگوں کے شر سے ڈر کر میں ایسا کیا کرتا ہوں۔رویا میں میں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں ڈرتا ہوں کوئی شر مجھے نہ پہنچ جائے بلکہ مطلب یہ تھا کہ اگر میں ایسے لوگوں سے خاطر مدارت کے ساتھ پیش نہ آؤں تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ اور زیادہ گمراہی میں نہ بڑھ جائیں اور ان کی روحانیت کو مزید