رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 195

195 256 غالبا فروری 1944ء فرمایا : میں نے دو تین ہفتے ہوئے ایک رؤیا دیکھا تھا معلوم ہوتا ہے وہ جماعت کی اصلاح کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں کھڑا ہو کر لوگوں میں تقریر کر رہا ہوں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بزرگ ہے جس کی عادت یہ ہے کہ جتنا اس سے کوئی مطالبہ کرے اتنا اسے دے دیتا ہے لیکن اس کی بیوی کچھ ایسی نیک نہیں۔اس بزرگ کا ایک لڑکا بھی ہے وہ عورت اس لڑکے کو ورغلاتی ہے اور کہتی ہے تیرا باپ روپیہ ضائع کر رہا ہے اگر یہ اسی طرح روپیہ دیتا رہا تو ہمارے لئے کچھ نہیں بچے گا آؤ ہم کوئی ایسی تدبیر کریں جس سے ہم اسے اس کام سے روک دیں تاکہ کسی طرح اس کا سارا روپیہ ہمارے ہاتھ آجائے اسے ضائع کرنے کا موقع نہ ملے۔گویا وہ عورت اس کا صدقہ و خیرات میں اپنا روپیہ صرف کرنا اسے ضائع کرنا سمجھتی ہے۔میں خواب میں کھڑے ہو کر اس مومن مرد اور اس کی بیوی اور بچے کا ذکر کرتا ہوں اور لوگوں کے سامنے ان کی مثال پیش کرتا ہوں مجھے خواب میں اس بزرگ کے اس واقعہ کا پتہ چل گیا ہے اور تقریر میں ذکر کرتے ہوئے میں لوگوں سے کہتا ہوں۔ایک بزرگ ہے اس میں یہ عادت پائی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس سے پیسہ مانگے تو وہ اسے پیسہ دے دیتا ہے چنانچہ میں تقریر کرتے ہوئے عربی زبان میں کہتا ہوں۔اِنْ يَطْلُبُ مِنْهُ فَلْسًا فَيُعْطِيهِ فَلْسًا پھر میں کہتا ہوں اگر کوئی اس سے دو آنے مانگے تو وہ اسے دو آنے دے دیتا ہے چنانچہ میں عربی زبان میں ہی کہتا ہوں۔وَإِنْ يَطْلُبْ مِنْهُ اثْنَيْنِ فَيُعْطِيهِ اثْنَيْنِ اس کے بعد میں پھر کہتا ہوں اگر کوئی شخص اس سے سارے مال کا مطالبہ کرے تو وہ اسے سارا مال دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔چنانچہ میں عربی زبان میں کہتا ہوں۔وَاِنْ يَطْلُبُ مِنْهُ أَحَدٌ كُلَّ شَيْءٍ فَيُعْطِيْهِ كُلَّ شتی و اس کی یہ حالت دیکھ کر اس کی بیوی اس کے بیٹے کو بتاتی ہے کہ تیرا باپ اس طرح روپیہ ضائع کر رہا ہے اگر کوئی اس سے پیسہ مانگے تو وہ اسے پیسہ دے دیتا ہے دو آنے مانگے تو اسے دو آنے دے دیتا ہے اور اگر کوئی شخص سارا مال مانگے تو وہ سارا مال دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اس پر وہ کہتی ہے اگر کوئی شخص اس سے کسی دن سارا مال مانگ بیٹھا تو ہمارے لئے تو گھر میں کچھ نہیں بچے گا اس لئے آؤ ہم دونوں اس کے پاس چلیں اور اس سے کہیں کہ وہ ہمیں اپنا