رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 168
168 دیکھو وہی ہوا جس سے میں ڈرتا تھا اس وقت میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اب جبکہ ملک آزاد ہو چکا ہے ملک کی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے لیکن اپنے دل میں سوچتا ہوں کہ کتنے آدمی میں اس موقع پر جمع کر سکتا ہوں اور میں نے خیال کیا کہ اگر پندرہ سو آدمی جمع ہو جائیں تو ہم آزادی کو برقرار رکھ سکیں گے اسی پر میری آنکھ کھل گئی۔کوئی دو سال کا عرصہ ہوا لاہور کے اخبار نویسوں کو ایک چائے کی پارٹی بعض دوستوں کی طرف سے دی گئی تھی اس وقت میری بعض خوابوں کا ذکر آیا تو ان لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہندوستان کی آزادی کے متعلق آپ کو کوئی بشارت ملی ہے اس وقت میں نے اس خواب کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں جواب دیا تھا کہ آئی تو ہے مگر ابھی اس کا بتانا مصلحت کے خلاف ہے اب واقعات نے بعینہ اسی طرح کے حالات ظاہر کر دیئے ہیں انگریزی حکومت اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ رہی ہے۔ہندوستان کے لئے وہ میدان خالی کر رہی ہے مگر بجائے محبت اور پیار سے اپنا تصفیہ کرنے ر تنظیم کرنے کے لوگ اس بات پر خوشیاں منا رہے ہیں کہ حکومت ہمارے ہاتھ میں آرہی ہے اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے اور اس فخر و مباہات کے بعد نتائج سے ہندوستان کو بچائے۔الفضل 24۔اگست 1946ء صفحہ 2 تمبر 1941ء 239 فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مدرسہ احمدیہ کے ایک کمرہ میں ہوں اور وہاں عزیزہ امتہ القیوم سلمھا اللہ تعالٰی اور میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ بیگم سلمھا اللہ تعالیٰ بھی میرے ساتھ ہیں دروازہ بند ہے مگر دروازہ میں بڑی بڑی دراڑیں ہیں میری نظر جو پڑی تو میں نے دیکھا کہ ان دراڑوں میں سے پولیس کے کچھ سپاہی جھانک رہے ہیں میں نے ان دونوں کو چھپا دیا اور باہر نکل کران پولیس والوں سے کہا کہ تم کیوں جھانک رہے تھے۔اس پر وہ کمرہ کے اندر گھسے اس وقت میں دل میں کہتا ہوں کہ اندر میری بیوی اور لڑکی ہے ان کی بے پردگی ہو گی مگر پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب باتوں پر قادر ہے وہ خود ان کی حفاظت کرے گا چنانچہ جب وہ کمرہ میں گھس آئے اور ادھر ادھر تلاش کرنے لگے تو میں نے دیکھا کہ دونوں وہاں سے غائب ہو گئی ہیں اور میں کہتا ہوں کہ دیکھو میرے رب کا احسان کہ اس نے اس ذلت سے ہمیں بچا لیا اور خود ان کو