رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 167

167 سے مراد دوسرا ہوتا ہے بعض اوقات باپ سے مراد بیٹا ہوتا ہے۔بعض دفعہ خواب میں بیٹا دکھایا جاتا ہے تو مراد اس سے باپ ہوتا ہے۔خواب میں میں نے اور جرمن لیڈر دیکھا تھا مگر اس کی ایک تعبیر یہ تھی کہ۔میں ہوائی جہاز سے اترا ہے اور ابھی ایک اور تعبیر ہے جو ابھی پوری ہونے والی ہے اس خواب میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بعض اور باتیں بھی ظاہر فرمائیں جو بہت مخفی ہیں اور کسی پر میں نے ان کو ظاہر نہیں کیا۔الفضل 9۔نومبر 1941ء صفحہ 4 گذشتہ دنوں میں سندھ میں تھا کہ مجھے انگریزی میں ایک الہام ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ انگریزی فوج کی صف تو ڑ کر جرمن فوج اندرداخل ہو گئی ہے دوسرے ہی دن میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو بھی ایک خط میں اس خواب کی اطلاع دے دی اور غالبا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی خواب لکھ دی اس کے بعد یہ خبر آگئی جو ریڈیو پر ہم نے خود سن لی کہ ” طبروق کے مقام پر انگریزی صفوں کو چیر کر جرمن فوج آگے بڑھ گئی ہے "۔الفضل 13۔جولائی 1941ء صفحہ 9 238 اگست 1941ء فرمایا : میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ گویا میں دہلی میں ہوں اور انگریز حکومت چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے ہیں اور ہندوستانیوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے اور بڑی خوشی کے جلسے کر رہے ہیں کہ حکومت ہمارے ہاتھ آگئی ہے۔ایک بہت بڑا چوک ہے اس میں کھڑے ہو کر بڑے زور شور سے لوگ تقریر کر رہے ہیں اور خطابات تجویز کر رہے ہیں کہ ہندوستان نے حکومت حاصل کی ہے فلاں کو یہ رتبہ دیا جائے اور فلاں کو یہ عہدہ دیا جائے غرض خطابات اور عہدے تجویز کر رہے ہیں۔میں نے ان کی خوشیوں کو دیکھ کر کھڑے ہو کر ان میں ایک تقریر کی اور کہا یہ کام کرنے کا وقت ہے خوشیاں منانے کا وقت نہیں انگریز تو صرف عارضی طور پر پیچھے ہٹے ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ پھر لوٹیں اور یہ سب خوشیاں بیکار ہو جائیں اس لئے تقریر میں نہ کرو ، خوشیاں نہ مناؤ تنظیم کرو اور تیاری کرو۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں پر میری بات کا اثر ہوا ہے لیکن اکثروں پر نہیں ہوا اور وہ اس خوشی میں کہ ہم نے ملک پر قبضہ کر ہی لیا ہے نعرے مارتے ہوئے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔جب وہ نعرے مار کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور میدان خالی ہو گیا تو میں نے دیکھا کہ سامنے سے انگریزی فوج مارچ کرتی ہوئی چلی آرہی ہے اور میں نے کہا