رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 155
155 گا۔پانچ سات مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اب دونوں سانپ ایک ہی طرف ہیں اور میں دوسری طرف سے کو دپڑا۔جب میں نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ واقعی وہ دونوں دوسری طرف تھے میں فوراً ان کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا ان میں سے ایک نے مجھ پر حملہ کیا اور میں نے اسے مار دیا پھر دوسرے نے حملہ کیا اور میں نے اسے مارا مگر میں سمجھتا ہوں ابھی وہ زندہ ہی ہے اسی جگہ کے پہلو میں ایک علیحدہ جگہ ہے میں ہٹ کر اس کی طرف چلا گیا ہوں وہاں ایک نہایت خوبصورت نوجوان ہے جو میں سمجھتا ہوں فرشتہ ہے اور گویا میری مدد کے لئے آیا ہے وہ عورت چاہتی ہے کہ اس سانپ کو پکڑ کر مجھ پر پھینکے مگر وہ نوجوان میرے آگے آگیا اور میری حفاظت کرنے لگا۔عورت نے نشانہ تاک کر اس پر مارا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی مافوق العادت طاقت کا ہے اس نے اسے سر سے پکڑ لیا اور چاقو نکال کر اس کی گردن کاٹ دی اس عورت نے پھر اس کٹی ہوئی گردن کو اٹھایا اور ہماری طرف پھینکنا چاہتی ہے۔کبھی اس کی طرف نشانہ باندھتی ہے اور کبھی میری طرف مگر اس فرشتہ نے مجھے پیچھے کر دیا اور فوراً آگے ہو گیا اور اسے پھینکنے کا موقع نہیں دیا۔آخر ایک دفعہ اس عورت نے پھینکا مگر فرشتہ آگے سے ایک طرف ہو گیا سامنے کچی دیوار تھی وہ اس دیوار میں لگا اور اس میں سوراخ ہو گیا اور وہ اس سوراخ کے اندرہی گھس گیا۔میری پیٹھ اس طرف ہے وہ فرشتہ ایک کمرہ کی طرف جو پہلو میں ہے اشارہ کر کے مجھ سے کہتا ہے کہ تم ادھر ہو جاؤ اس سوراخ میں سے یہ سانپ پھر نکلیں گے (گویا ان کی موت مجازی تھی اور جسمانی موت نہ تھی اور ابھی حقیقتاً زندہ تھے میں نے دیکھا کہ کبھی وہ اس سوراخ سے سر نکالتا ہے اور کبھی زبان ہلاتا ہے کبھی ادھر اور کبھی ادھر رخ کرتا ہے گویا چاہتا ہے کہ ہم ذرا غافل ہوں تو وہ حملہ کر دے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک کی بجائے دو سانپ ہیں اور گویا دوسرا سانپ جسے میں نے مردہ سمجھا تھا وہ بھی در حقیقت زندہ تھا چنانچہ پہلے تو ایک ہی سوراخ تھا مگر یکدم ایک اور نمودار ہو گیا اور دونوں سانپ ان سوراخوں میں سے کو دے اور زمین پر گرتے ہی آدمی بن گئے جو بڑے قوی الجثہ ہیں اس پر فرشتہ نے کسی عجیب سی زبان میں کوئی بات کی جسے میں نہیں سمجھ سکا۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس نے کسی زبان میں جسے میں نہیں جانتا دعائیہ الفاظ کے ہیں اور وہ الفاظ ہاکی پاکی" کے الفاظ سے مشابہہ ہیں مگر چونکہ وہ غیر زبان ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہی الفاظ ہیں یا ان سے ملتے جلتے کوئی اور الفاظ۔اس کے دعائیہ الفاظ کا اس کی زبان سے جاری ہو نا تھا کہ میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ اوپر اٹھے اور ان میں ہتھکڑیاں پڑ گئیں مگر