رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 154

154 میری آنکھ کھل گئی۔الموعود صفحہ 126 - 127 ( تقریر جلسہ سالانہ 28 - دسمبر 1944ء) یہ رویا جون 1940 ء میں میں نے دیکھا تھا۔جولائی کے مہینہ میں میں ایک دن مسجد مبارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ آپ کے نام ایک ضروری فون آیا ہے میں گیا تو مجھے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی آواز آئی۔انہوں نے کہا۔مبارک ہو آپ کی خواب پوری ہو گئی۔ابھی تار آئی ہے جس میں لکھا ہے۔The British Representative from America Wires that the American Government has delivered 2800 aeroplanes to the British Government۔گویا وہی الفاظ جو رویا میں مجھے دکھائے گئے تھے ایک مہینے کے اندراندر پورے ہو گئے۔سیر روحانی جلد 2 صفحہ 64-63 ( شائع کرده تالیف و اشاعت صد را مجمن احمد یہ ربوہ)۔نیز دیکھیں۔الفضل 11۔اپریل 1941 ء صفحہ 5 و 13۔جولائی 1941ء صفحہ 8 و 25 جولائی 1944 ء صفحہ 2 و 29 - ستمبر 1946ء صفحہ 1 و 18۔فروری 1958ء صفحہ 14 و 6 مئی 1960ء صفحہ 3 و 5 - فروری 1941ء صفحہ 14 9 اگست 1942ء صفحہ 4 اور 25 جون 1944ء صفحہ 1۔میں بھی اس رویا کا ذکر آتا ہے۔230 جون 1940ء فرمایا : میں نے ایک خواب دیکھا پہلے تو میں سمجھا تھا اس کا مطلب کچھ اور ہے مگر اب میں سمجھتا ہوں شاید ان کے اور ان کے تماش کے دوسرے لوگوں کے متعلق ہو۔میں نے دیکھا کہ ایک چار پائی ہے جس پر میں بیٹھا ہوں سامنے ایک بڑھیا عورت جو بہت ہی کریمہ المنظر ہے کھڑی ہے اس نے دو سانپ چھوڑے ہیں جو مجھے ڈسنا چاہتے ہیں وہ چارپائی کے نیچے ہیں اور سامنے نہیں آتے تاجب میں نیچے اتروں تو پیچھے سے کود کر ڈس لیں۔میرا احساس یہ ہے کہ ان میں سے ایک چارپائی کے ایک سرے پر ہے اور دوسرا دو سرے سرے پر۔تامیں جدھر سے جاؤں حملہ کر سکیں۔میں کھڑا ہو گیا ہوں اور جلدی جلدی کبھی پائنتی کی طرف جاتا ہوں اور کبھی سرہانے کی طرف۔میں خیال کرتا ہوں کہ جب میں پائنتی کی طرف جاؤں گا تو سرہانے کی طرف کا سانپ اس طرف دوڑے گا اور جب سرہانے کی طرف آؤں گا تو پائنتی والا اس طرف آئے گا اور اس طرح میں ان کو جھانسہ دے کر نکل جاؤں