رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 156

156 اس طرح کہ ایک کلائی دوسری کے اوپر ہے اور دایاں ہاتھ بائیں طرف کر دیا گیا اور بایاں دائیں طرف کر دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ایک کمان دونوں ہاتھوں پر رکھی گئی ہے اور اس کے ایک سرے سے ایک ہاتھ کی انگلیاں اور دوسرے سرے سے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں باندھ دی گئی ہیں دوسرے آدمی کو کس طرح قید کیا گیا ہے میں اچھی طرح نہیں دیکھ سکا پھر فرشتہ نے مجھے اشارہ کیا کہ باہر آجاؤ۔الفضل 18 جون 1940ء صفحہ 4 231 تمبر 1940ء فرمایا : ایک اور خواب میں نے پچھلے سال دیکھا تھا جس کا دوسرا حصہ اب پورا ہوا ہے۔میں شملہ میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے مکان پر تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک جگہ ہوں اور وہاں ایک بڑا ہال ہے جس کی سیڑھیاں بھی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا ملک ہے مگر نظر ہال آتا ہے میں دیکھتا ہوں کہ سیڑھیوں میں سے اٹلی کی فوج لڑتی آرہی ہے اور انگریزی فوج دیتی چلی جا رہی ہے یہاں تک کہ اطالوی فوج ہال کے کنارے تک پہنچ گئی جہاں سے میں سمجھتا ہوں کہ انگریزی علاقہ شروع ہوتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ قادیان نزدیک ہی ہے اور میں بھاگ کر یہاں آیا ہوں۔مجھے میاں بشیر احمد صاحب ملے ہیں میں ان سے اور بعض دوستوں سے کہتا ہوں کہ اٹلی کی فوج انگریزی فوج کو دباتی چلی آرہی ہے اگر چہ ہماری صحت اور بینائی وغیرہ ایسی تو نہیں کہ فوج میں باقاعدہ بھرتی ہو سکیں مگر بندوقیں ہمارے پاس ہیں آؤ ہم لے کر چلیں دور کھڑے ہو کر ہی فائر کریں گے۔چنانچہ ہم جاتے ہیں اور دور کھڑے ہو کر فائر کرتے ہیں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ انگریزی فوج اٹلی والوں کو دبانے لگی ہے اور اس نے پھر انسی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کر دیا ہے جن پر سے وہ اتری تھی اس وقت میں دل سے سمجھتا ہوں کہ دو تین بار اس طرح ہوا ہے۔چنانچہ یہ خواب لیبیا میں پورا ہو چکا ہے جہاں پہلے تو دشمن مصر کی سرحد تک پہنچ گیا تھا مگر انگریزوں نے پھر اسے پیچھے ہٹا دیا۔پھر دشمن نے انگریزوں کو پیچھے ہٹا دیا اور اب پھر انگریزوں نے ان کو پیچھے ہٹا دیا اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال کہیں تاریخ میں نہیں ملتی کہ چار دفعہ ایسا ہوا ہو کہ پہلے ایک قوم دوسری کو ایک سرے سے دباتی ہوئی دوسرے سرے تک جا پہنچی ہو اور پھر وہ اسے دبا کر وہیں پہنچا آئی ہو اور چوتھی دفعہ پھر وہ اسے