رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 127
127 بالکل تباہ ہو جائے گا کیونکہ کہتے ہیں کہ سانپ جب زخمی ہو جائے تو پھر بچ نہیں سکتا۔پس اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ یہ اس طرح ذلیل ہوں گے کہ کوئی اثر ان کا جماعت میں نہ رہے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے کچھ لوگ ذلیل ہو کر مخفی مخفی جماعت میں شامل رہیں جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض مناطق رہ گئے تھے جنہوں نے بعد میں بہت گندی روایات تاریخ اسلامی میں داخل کر دیں۔یہ بھی اندر رہ کر فتنہ پیدا کرتے رہیں۔اللفضل 30 - جولائی 1937 ء 10+ 12۔ستمبر 1937ء 208 فرمایا : گذشتہ اتوار کی رات میں نے ایک عجیب رویا دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ایک بڑا جلسہ گاہ ہے مگر اس رنگ کا نہیں جیسا کہ ہمارا جلسہ گاہ ہوا کرتا ہے بلکہ جیسا کہ تاریخوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ روم میں بڑے بڑے قومی اجتماعوں کے لئے ایمفی تھیٹر (Amphi Theatre) بنائے جایا کرتے تھے اس رنگ کا وہ جلسہ گاہ ہے یعنی جو خطیب ہے اس کے سامنے مربع یا مستطیل شکل میں جلسہ گاہ نہیں بلکہ ہلالی رنگ میں ہے جس طرح گھوڑے کا نعل بیچ میں سے خالی ہوتا اور قریباً نصف دائرہ یا اس سے کچھ زیادہ بناتا ہے اسی طرح ایک وسیع میدان میں جو نصف میل یا میل کے قریب ہے اسی طرح بیج لگے ہوئے ہیں جس طرح پہلے دن کا چاند ہوتا ہے ایک گول دائرہ ہے جو دور فاصلہ سے شروع ہو کر دونوں کناروں سے آگے بڑھنا شروع ہوتا ہے اور جس طرح چاند کی ایک طرف خالی نظر آتی ہے اسی طرح ایک طرف سے اس دائرہ کی خالی ہے اور وہاں لیکچرار یا خطیب کی جگہ خالی ہے۔اس وسیع میدان میں کہ لوگوں کی شکلیں بھی اچھی طرح پہچانی نہیں جاسکیں بہت سے لوگ لیکچر سنے کے لئے بیٹھے ہیں اور جو درمیانی جگہ خطیب کی ہے جہاں چاند کے دونوں کونے ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں وہاں میں کھڑا ہوں اور اس وسیع مجمع کے سامنے ایک تقریر کر رہا ہوں۔وہ تقریر الوہیت نبوت اور خلافت کے متعلق اور اس کے باہمی تعلقات کی نسبت ہے۔گویوں بھی میری آواز خدا تعالیٰ کے فضل سے جب صحت ہو تو بہت بلند ہوتی ہے اور دور دور سنائی دیتی ہے لیکن وہ دائرہ اتنا وسیع ہے کہ میں سمجھتا ہوں مجھ سے دگنی آواز والا شخص بھی اپنی آواز ان لوگوں تک نہیں پہنچا سکتا مگر رویا میں میری آواز