رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 115
115 191 فروری 1935ء فرمایا : ایک رؤیا بیان کر دیتا ہوں جو انہی دنوں میں نے دیکھا کہ میں بھوپال میں ہوں اور وہاں ٹھرنے کے لئے سرائے میں اترنے کا ارادہ ہے۔ایک سرائے وہاں ہے جو بہت اچھی اور عمدہ ہے مگر ایک اور سرائے جو بظاہر خراب اور خستہ ہے اور وہاں میرے ساتھی اسباب لے گئے ہیں۔ایک ہمارے ہم جماعت ہوا کرتے تھے ان کا نام حافظ عبدالرحیم تھا۔میں نے دیکھا کہ وہ اس جگہ ہیں اور حکیم دین محمد صاحب کہ وہ بھی میرے ہم جماعت ہیں وہیں ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حافظ عبدالرحیم صاحب مرحوم اس بظاہر شکستہ سرائے میں ہمیں لے گئے ہیں میں اسے دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہاں ٹھہرنے میں تو خطرات ہوں گے۔سرائے بھی خراب ہی ہے۔دوسری اچھی سرائے جو ہے وہاں کیوں نہیں ٹھرتے۔وہ کہنے لگے ہیں ٹھہرنا اچھا ہے پھر وہ میرے لئے بستر بچھاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بستر بھی نہایت گندہ اور میلا سا ہے۔میں اسے دیکھ کر کہتا ہوں اگر مجھے معلوم ہو تا کہ بستر ایسا گندہ ملے گا تو میں اپنا بستر لے آتا۔تکیہ کی جگہ بھی انہوں نے کوئی نہایت ہی ذلیل سی چیز رکھی ہے۔پھر جس طریق پر وہ بچھاتے ہیں اس سے بھی مجھے نفرت پیدا ہوتی ہے کیونکہ ٹیڑھا سا بسترا انہوں نے بچھایا ہے مگر پھر میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ بری بات ہے میں کسی اور جگہ رہائش کا انتظام کروں جہاں باقی ساتھی ہیں وہیں مجھے بھی رہنا چاہئے۔اس کے بعد میں بستر پر لیٹ جاتا ہوں مگر لیٹتے ہی میں دیکھتا ہوں کہ بستر نہایت اعلیٰ درجہ کا ہو جاتا ہے اور جگہ بھی تبدیل ہو کر پہلے سے بہت خوشنما ہو جاتی ہے۔لحاف اور کمبل بھی جو بستر پر ہیں نہایت عمدہ قسم کے ہو جاتے ہیں اور تکیہ بھی میں دیکھتا ہوں کہ بہت اعلیٰ ہے اور باقی ساتھیوں کے بستر بھی صاف ستھرے ہو جاتے ہیں۔بستر پر لیٹتے وقت میرے دل میں خیال تھا کہ مجھے اپنے پاس کوئی ہتھیار رکھنا چاہئے کیونکہ خواب میں ہم باہر صحن میں ہیں اور گلابی جاڑے کا موسم ہے جبکہ لوگ باہر سوتے ہیں لیکن اوپر کچھ نہ کچھ اوڑھتے ہیں پس خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چور چکار نہ آجائے۔میں اسی سوچ میں ہوں کہ میں خیال کرتا ہوں میری جیب میں پستول پڑا ہے اسے دیکھوں کہ موجود ہے یا نہیں۔چنانچہ کہنی کے بل میں اٹھتا ہوں اور جیب میں ہاتھ مار کر دیکھتا ہوں تو مجھے نہایت اچھی قسم کا عمدہ سا پستول نظر آجاتا ہے اس پر دل میں