رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 116
116 اطمینان پیدا ہو جاتا ہے۔اس رویا کا اثر اتنا گہرا تھا کہ فورا آنکھ کھل گئی اور میں نے دیکھا کہ میں واقعہ میں اپنے کرتہ پر صدری کی جیب کی جگہ پر ہاتھ مار رہا ہوں جیسے کوئی کچھ تلاش کرتا ہے۔یہ رویا تو تعبیر طلب ہے مگر اور بھی بہت سے واضح رویا ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ابتلاؤں میں ہمیں فتح دے گا اور یہ کہ اس کا منشاء یہ ہے کہ وہ احمدیت کو ان ابتلاؤں کے ذریعہ سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں پھیلائے اور کوئی بڑی سے بڑی روک اس کی ترقی میں حائل نہیں ہو سکے گی۔الفضل 17۔فروری 1935ء صفحہ 10 192 فرموده یکم فروری 1935ء فرمایا : میں نے اپنی زندگی میں بیسیوں دفعہ رویا دیکھا ہے کہ بعض دانت گر گئے ہیں اور عام طور پر اگر تو دیکھا جائے کہ دانت گر کر مٹی میں مل گئے ہیں تو اس کی تعبیر موت ہوتی ہے لیکن اگر یہ دیکھا جائے کہ مٹی میں نہیں ملے اور ہاتھ میں یا کسی اور محفوظ جگہ میں ہیں اور صاف ہیں تو اس کی تعبیر لمبی عمر ہوتی ہے کیونکہ دانت عام طور پر لمبی عمر میں ہی گرتے ہیں۔خدا کی قدرت ہے کہ ادھر تو ایسے رویا ہوئے اور ادھر گذشتہ چند دنوں کی بات ہے کہ میرے دانتوں میں ایسا شدید درد ہوا کہ جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور اس سے دانت ہلنے لگ گئے اور میں نے سمجھا کہ شاید اسی طرح بیماری سے دانت گر کر وہ خواب پوری ہو جائے گی اور اس کے معنے لمبی کے نہیں ہوں گے مگر دوسرے تیسرے دن وہ پھر اپنی جگہ پر قائم ہو گئے۔الفضل 12۔فروری 1935ء صفحہ 4 اپریل 1935ء 193 فرمایا : میں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا میں دیکھا آپ ایک اور شخص سے فرما رہے تھے اتُصَدِّقُنِى وَلَا تُؤْمِنُ بی یعنی تو میری تصدیق تو کرتا ہے مگر میری بات نہیں مانتا۔گویا یہ ایک حدیث ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مونہہ سے میں نے براہ راست سنی۔لوگ تو احادیث کے متعلق یہ بحثیں کیا کرتے ہیں کہ یہ احاد میں سے ہے اور یہ تو اتر میں سے۔فلاں کے راوی ثقہ ہیں اور فلاں کے نہیں مگر یہ وہ حدیث ہے جو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی کہ اتُصَدِّقُنِي وَلَا تُؤْمِنُ بِنی یعنی تو میری