رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 572
572 روئے کہ ان کے درد نے اللہ تعالیٰ کے رحم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو جذب کر لیا تب آپ کو اونگھ آگئی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نظر آئے اور فرمایا کہ میرد رو اٹھو میں تم کو طریقہ ناصریہ کی تعلیم دیتا ہوں یہ طریقہ آئندہ سب طریقوں سے اونچا رہے گا اور قیامت تک چلے گا اور آخر میں یہ مہدی آخر الزمان کے طریقہ سے جذب ہو جائے گا سو اس پیشگوئی کے مطابق جو کوئی سو سال پہلے ہوئی تھی اور کتابوں میں شائع ہو چکی ہے حضرت اماں جان پیدا ہو ئیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیاہی گئیں اس طرح خواجہ میر درد صاحب کے منہ سے جو پیش گوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کروائی تھی اس کا ایک حصہ حضرت اماں جان کے ذریعہ سے پورا ہوا اس کے بعد آپ کے بطن سے اور حضرت مہدی الزماں کی نسل سے میں پیدا ہو ا ر سول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی پیش گوئی کا دوسرا حصہ میرے ذریعہ سے پورا ہوا پس میں اس پیش گوئی کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہوں میں نے دیکھا کہ میرے اس بیان سے اس مصری یا یورپین کے چہرے پر آثار تعجب و حیرت پیدا ہوئے گویا کہ اس نے معلوم کر لیا کہ اسلام میں اظہار غیب کا ایک لمبا سلسلہ جاری ہے جو سینکڑوں سال سے چلا آ رہا ہے اور ختم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے نشانات متواتر اس کی تائید میں ظاہر ہوتے ہیں۔فَسُبْحَانَ الَّذِى اَخْرَى الْأَعادِي الفضل 29 - مئی 1955ء صفحہ 3 604 24 مئی 1955ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ہزاروں ہزار آدمی جماعت کے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور میرے لئے دعا کر رہے ہیں وہ اتنا دردناک نظارہ تھا کہ اس سے میرا دل دہل گیا اور میری طبیعت پھر خراب ہو گئی یہی وجہ تھی کہ باوجود ارداہ کے میں عید پڑھانے نہیں جاسکا چو نکہ اس رویا کی میرے دل میں ایک دہشت تھی اور اب بھی اس کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے میں سفر میں اس رؤیا کو لکھ کر بھیجوانا پسند نہیں کرتا اس عرصہ میں جو ربوہ سے خطوط آئے ہیں اس میں بھی یہ لکھا ہوا تھا کہ آخری رمضان کی شام کو جو دعا کی گئی وہ ربوہ میں ایک غیر معمولی دعا تھی اور یہ معلوم ہو تا تھا کہ گویا عرش بھی ہل گیا ہو گا ان خطوں میں بھی گویا میری رویا کا نقشہ کھینچا گیا تھا جَزَى اللهُ سَاكِنِي رَبْوَةً خَيْرًا الفضل -14 جون 1955ء صفحہ 3۔نیز دیکھیں۔رپورٹ مجلس