رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 571

571 سکتا۔ابھی تک کبھی کبھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے فارسی کتاب پڑھ لیتا ہوں مگر خود لکھنے بولنے کی مہارت نہیں۔الفضل 3۔مئی 1955ء صفحہ 2 مئی 1955ء 602 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک لڑکا آٹھ یا نو یا دس سال کا بیٹھا ہے اس شکل کا جیسے پرانے زمانہ میں فرشتوں کی شکلیں بتائی جاتی تھیں میں نے اس سے کوئی بات کی جو مہتر معلوم ہوتی ہے مگر آنکھ کھلنے پر یاد نہیں رہی۔الفضل 29۔مئی 1955ء صفحہ 3 603 19۔مئی 1955ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ کوئی شخص غیر ملکی مصری ہے یا یورپین وہ مجھ سے احمدیت یا اسلام کے متعلق دریافت کرتا ہے اور میں اسے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے بھی ایسے بزرگ ہوتے چلے آئے ہیں جو صاحب کشف اور رویا اور الہام تھے اس وقت ہمارے خاندان کا ایک لڑکا ہمارے پاس کھڑا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ یہ خواجہ میر درد صاحب کی اولاد میں سے ہے اس وقت میں نے اس کے چہرہ کی طرف دیکھا اور میں نے سمجھا کہ یہ حیران ہے کہ خواجہ میر درد صاحب کون تھے میں نے اسے کہا کہ خواجہ میر درد ایک مسلمان بزرگ گزرے ہیں جو نہایت متقی اور پرہیز گار تھے ان کے والد بادشاہ کی فوج میں ملازم تھے۔ایک دفعہ وہ والد کی معیت میں بادشاہ کے پاس گئے اور بادشاہ کو بہت پسند آئے اور بادشاہ نے ان کے والد سے کہا کہ کسی دن لڑکے کو لاؤ ہم اس کو فوج میں بڑا عہدہ دیں گے (بالکل یہی نہیں مگر اس سے ملتا جلتا واقعہ تاریخ میں ان کے متعلق آتا ہے) خواجہ میر درد صاحب نے بادشاہ سے کہا کہ میں تو خدا تعالیٰ کی ملازمت چاہتا ہوں اس پر بادشاہ نے جو نیک دل آدمی تھا ان کے والد سے کہا آپ بچے کو تنگ نہ کریں جب یہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ملازمت کرنا چاہتا ہوں تو اس کو اپنے رستہ پر چلنے دیں (کسی دن توفیق ملی تو انشاء اللہ کتاب میں دیکھ کر میں اصل واقعہ بھی شائع کر دوں گا) خواجہ میرد رو صاحب جب گھر آئے تو یہ خیال کر کے کہ میرے والد صاحب مجھے دنیا میں پھنسانے لگے تھے گھر کے ایک کمرہ میں گھس گئے اور خوب روئے اور اتنا