رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 482
482 والے کشمیری علاقہ میں کچھ گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد لیڈر میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے۔تب میں نے حقیقت معلوم کرنے کے لئے ان سے کہا کہ کشمیر کا لفظ جب ہم آج بولتے ہیں تو اس کے تین معنے ہوتے ہیں اول جو اس وقت پاکستان کے انتظام کے نیچے ہے دوم وہ حصہ جو آزاد کشمیر گورنمنٹ کے انتظام کے نیچے ہے اور در حقیقت وہ بھی پاکستان کا ہمدرد اور پاکستان سے تعلق رکھنے والا ہے تیسرے وہ حصہ جو ابھی مہاراجہ کے ماتحت ہے۔جو حصہ پاکستان کے ماتحت ہے یا پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ہے اس کو فتح کرنے کے کوئی معنے ہی نہیں۔اس کے فتح کرنے کے معنے ہی فساد پیدا کرنا اور ملک سے غداری کرنا۔ہاں ملک کو طاقت ان علاقوں کو فتح کرنے سے بے شک ہو سکتی ہے جو ابھی آزاد کشمیر گورنمنٹ کے ماتحت نہیں آئے یا پاکستان گورنمنٹ کے ماتحت نہیں آئے تو آپ یہ بتائیے کہ یہ علاقہ جو آپ لینا چاہتے ہیں ان تینوں میں سے کس قسم کا ہے۔میں نے دیکھا کہ وہ میرے اس سوال کا جواب دینے سے ہچکچاتے ہیں اور میں نے سمجھ لیا کہ در حقیقت وہ اس علاقہ میں فساد کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کے ماتحت ہے یا آزاد کشمیر کے ماتحت ہے۔یہ بات معلوم کر کے میں نے سمجھا کہ میں ان لوگوں کی مدد نہیں کر سکتا چنانچہ میں نے بغیر اس کے کہ ان پر پوری بات ظاہر کروں ان سے کہا کہ ایسے علاقہ کو فتح کرنے کی کوشش کرنا جو پہلے ہی پاکستان کے ماتحت ہے یا پاکستان سے تعلق رکھتا ہے ملک سے غداری ہے پس جب تک میری اس بارہ میں تسلی نہ ہو جائے آپ کی مدد کے لئے تیار نہیں۔انہوں نے میری اس بات کا جواب تو نہیں دیا لیکن ان کے چہروں سے پتہ لگتا ہے کہ میری اس بات کو انہوں نے بہت ہی ناپسند کیا ہے اور میں نے رویا میں سمجھا کہ اب یہ لوگ مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے اور میں نے مناسب سمجھا کہ ان لوگوں سے الگ ہو جاؤں لیکن ساتھ ہی میں ڈرا کہ ان لوگوں کو میرے خیالات کا پتہ لگ گیا ہے اور یہ لوگ مجھے پر حملہ کریں گے پس میں نے اپنے اس ارادہ کا ان پر اظہار نہیں کیا اور خاموشی سے ان کے ساتھ چلتا رہا۔یہاں تک کہ سڑک کے پاس مجھے ایک رستہ نظر آیا جو جنگل میں سے گزرتا ہے اس وقت میں دوڑ کر ان سے الگ ہو گیا اور اس رستہ پر میں نے دوڑنا شروع کیا۔چند سو گز تک مجھے معلوم ہوا کہ میرا تعاقب کر رہے ہیں لیکن اس کے بعد ان کے پیروں کی