رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 483

483 آوازیں آنی بند ہو گئیں۔میں چلتے چلتے ایک پانی کے کنارے پر پہنچا جس کے متعلق بوجہ رات کے اندھیرے کے (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک سورج ڈوب گیا ہے) میں معلوم نہیں کر سکتا کہ آیا کوئی دریا ہے یا جھیل ہے یا نہر ہے۔مگر میں نے یہ سمجھا کہ جدھر وہ جا رہے ہیں اگر اسی طرف میں اس کنارے کنارے چلتارہوں تو مجھے اس مقام کا پتہ لگ جائے گا جہاں میرا گھر ہے کیونکہ وہیں سے وہ لوگ مجھے ساتھ لائے تھے۔اس وقت یہ خیال ہے کہ میں اکیلا ہوں اور مجھے گھر کا رستہ بھولا ہوا ہے چنانچہ میں پانی کے کنارے کنارے اس طرف چلنا شروع ہوا اور تھوڑی دیر میں مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ ایک نہر ہے چلتے چلتے ایک گاؤں آیا۔اس گاؤں سے آگے میں نے دیکھا کہ نہر پر پل بنا ہوا ہے اور دور سے مجھے وہ لوگ اس پل کی طرف آتے ہوئے نظر آئے اور میں نے سمجھ لیا کہ اس پل پر سے گزر کر ان لوگوں نے گھر جاتا ہے اور اس کے پاس کے علاقے میں میرا گھر بھی ہے لیکن معا مجھے خیال آیا کہ وہ گاؤں جو پل کے پاس نہر کے کنارے پر ہی ہے میں کیوں نہ اس گاؤں کے لوگوں کو تیار کروں کہ وہ ان لوگوں کا مقابلہ کریں تا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فساد کر کے پاکستان کو نقصان پہنچا ئیں چنانچہ میں نے ان لوگوں میں کھڑے ہو کر یہ تقریر شروع کی کہ دیکھو کہ کچھ لوگ آرہے ہیں ان کی نیت یہ ہے کہ ایک پاکستان سے تعلق رکھنے والے کشمیری حلقہ میں فساد پیدا کریں اور یہ ملک کی غداری ہے ہمیں چاہئے کہ پیشتر اس کے کہ یہ ایسا کر سکیں ان کا مقابلہ کریں چنانچہ میری ان باتوں کا نوجوانوں پر اثر ہوا اور وہ تیار ہو گئے کہ ہم ان کا مقابلہ کرتے ہیں مگر اسی دوران میں گاؤں کے کچھ بڑھے ان لوگوں سے جاملے اور انہوں نے ان کو مذہب کی بناء پر برانگیخته کر دیا چنانچہ انہوں نے وہاں سے واپس آکر نوجوانوں کو کہنا شروع کر دیا۔یہ تو مرزائی ہیں کیا تم نے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہو اور میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان پہلے اس بات پر آمادہ تھے کہ ان کو روکیں اور پیشتر اس کے کہ وہ فساد پر آماد ہوں ان کو شکست دے دیں وہ پھسل گئے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم مرزائیوں کے ساتھ مل کر کس طرح کام کر سکتے ہیں تب میں جوش کے ساتھ ان میں تقریر کرنے لگا کہ دیکھو یہ مرزائیت اور احمدیت کا سوال نہیں۔یہ سوال تو تمہارے ملک کا ہے میں تمہیں اس وقت احمدیت کی تبلیغ نہیں کر رہا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ ان لوگوں کے افعال کا نتیجہ تمہارے ملک کے لئے نقصان دہ ہو گا اگر میرا یہ