رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 292
292 کیا تو وہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ نکلے ہر جیب میں سے کچھ نہ کچھ روپے نکلتے چلے آئے اور اس کے بعد معلوم ہوا کہ میرے ساتھ ایک اٹیچی کیس ہے اس میں بھی روپے ہیں میں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ وہ روپے سفید چاندی کے ہیں اور بہت سے عام روپے کے سائز سے بڑے ہیں اور بعض ایسی شکل کے ہیں کہ وہ موجودہ سکے سے کوئی مناسبت ہی نہیں رکھتے چنانچہ بعض ان میں سے بجائے گول کے چو گوشہ ہیں جیسے پرانے زمانہ میں ہول ولیاں عورتیں گلے میں لٹکایا کرتی تھیں مگر وہ ہول ولیوں سے بہت بڑے سائز کے ہیں ایک انچ سے زیادہ چوڑے اور کوئی پونے دو انچ کے قریب لمبے اور بھاری بھاری معلوم ہوتے ہیں میں اس بات سے حیران ہوتا ہے کہ روپیہ رکھوں کہاں۔پھر میں نے معلوم نہیں کیا ان روپوں کو کیا کیا لیکن میں باہر آیا اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں قریباً پون گھنٹہ لیٹ ہو گیا ہوں لیکن پھر میں چلا گیا اور میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ جہاز کہاں جا کر اترے گا تو اس نے کہا سکاٹ لینڈ میں۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ سکاٹ لینڈ کے کون سے شہر میں۔تو اس نے جواب دیا۔گلاسکو میں۔پھر میں نے اس سے و ریافت کیا۔گلاسکو یہاں سے کتنی دور ہے تو اس نے کہا ایک لحاظ سے پندرہ سو میل اور ایک لحاظ سے دو سو میل۔اس پر میں نے اس سے کہا کہ پندرہ سو میل تو کسی طرح نہیں ہو سکتا۔میں نے بھی انگلستان کا جغرافیہ پڑھا ہوا ہے لنڈن سے سکاٹ لینڈ کے آخری سروں تک رات رات میں ریل پہنچ جاتی ہے پندرہ سو میل کس طرح ہو سکتا ہے دو سو میل ٹھیک ہو گا اس پر یا تو اس نے جواب نہیں دیا یا میں نے سنا نہیں مگر اسی میں میری آنکھ کھل گئی۔میں سمجھتا ہوں شاید اللہ تعالی سکاٹ لینڈ میں احمدیت کی اشاعت کے سامان کرے اور شاید کوئی ایسی تحریک پیدا ہو جو گلاسکو سے دو سو میل جنوب کی طرف سے شروع ہو کر گلاسکو تک جاری ہو کیونکہ گلاسکو سے دو سو میل ورے ہوائی جہاز ٹھہرا ہے اور یہ جو جواب دینے والے نے کہا کہ ایک طرف سے پندرہ سو میل۔اگر بات کہنے والے کی غلط نہیں۔تو پھر اس کے یہ منے بنتے ہیں کہ یہ مقام شمال مغربی انگلینڈ کے قریب واقعہ ہے وہاں سے اگر مغرب کی طرف سے بجائے خشکی کے راستے سے جانے کے جہاز کے رستے جائیں تو غالبا ہزار پندرہ سو میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔گلاسکو اور اس کے نواح کا علاقہ ایک اور لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے جس کا میری بعض