رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 291

291 " اسی مصرعہ کی تکمیل بھی ساتھ ہی ہو گئی یعنی یہ الفاظ بیداری کی حالت میں دل میں گزرے کہ وہ خوش نصیب ہوں میں " یہ ایک میرے ہی شعر کا پہلا مصرعہ ہے جو یہ ہے ملک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں وہ آپ مجھ سے ہے کہتا نہ ڈر قریب ہوں میں اس میں در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح شعر میں میں نے بحیثیت انسان ہونے کے اس مضمون کو باندھا ہے کہ انسان ایسا خوش نصیب ہے کہ ملک اس پر رشک کرتے ہیں لیکن حقیقی طور پر بعض ایسے انسان ہی اس کے مستحق ہوتے ہیں جو خلافت کے مقام پر مقرر کئے جاتے ہیں کیونکہ خلافت آدم کا ہی مقام ہے جبکہ فرشتوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آدم کی اتباع میں تم کام کرو گویا ملائکہ کی نصرت اور تائید کو اسی کے لئے لگا دیا گیا ہے۔اس الہام میں اس طرف اشارہ ہے اور گویا وعدہ ہے کہ فرشتوں کو میری تائید اور نصرت کے لئے خداتعالی کی طرف سے مقرر کر دیا گیا ہے اور لازمی بات ہے کہ ایسے انسان پر ملائکہ بھی رشک کریں گے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ہر فعل کی قیمت سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ خدا تعالی کا کسی کو کام کے لئے مقرر کرنا ایک بہت بڑا فضل ہوتا ہے۔الفضل 21۔ستمبر 1945ء صفحہ 2 366 17۔ستمبر 1945ء فرمایا : آج رات یعنی 16 - 17 - ستمبر 1945ء کی درمیانی رات کو قریباً دو تین بجے میں نے دیکھا کہ میں ہوائی جہاز پر سوار ہوں اور انگلستان جا رہا ہوں ہوائی جہاز بہت بڑا ہے کہ اس میں اور مسافر بھی سوار ہیں ہم انگلستان کے ایک پہاڑی علاقہ میں اترے ہیں اور اترنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ناشتہ وغیرہ کر لیں تو پھر جہاز روانہ ہو۔یہ علاقہ جہاں جہاز اترا ہے لندن سے شمال کی طرف معلوم ہوتا ہے گویا ہم پرواز کرتے ہوئے آگے گزر چکے ہیں۔جہاز کے دوسرے مسافر ناشتہ کے لئے چلے گئے اور میں غسل خانہ میں ہاتھ دھونے کے لئے گیا اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری جیبوں میں کچھ روپے ہیں جو مجھے بعض لوگوں نے ہدیہ دیتے ہیں میرے دل میں خیال آتا ہے کہ ان کو نکال کر ایک جیب میں ڈال لوں جب میں نے ان کو نکال کر جمع کرنا شروع