رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 293

293 سابق خوابوں کے ساتھ تعلق ہے مگر سمجھنے والے سمجھ جائیں شاید موجودہ وقت اس کے اظہار کی اجازت نہ دیتا ہو۔الفضل 21۔ستمبر 1945ء صفحہ 2 ستمبر 1945ء 367 فرمایا : 24/23 - رمضان کی درمیانی رات کو رویا میں دیکھا کہ میں اپنے دفتر واقع قادیان میں ہوں ان سیڑھیوں سے اترا ہوں جو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف جاتی ہیں سیڑھیوں کی شکل بھی اس شکل سے جو واقعہ میں ہے مختلف معلوم ہوتی ہے موجودہ سیڑھیاں گول ہیں اور جن کو خواب میں دیکھتا ہوں وہ سیدھی ہیں اور اصل سیڑھیوں سے چھوٹی لگتی ہیں جب میں نیچے آیا تو میں نے دیکھا مولوی سید سرور شاہ صاحب کھڑے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک سفید لمبا لفافہ ہے جیسے دفتری لفافے ہوتے ہیں۔اس وقت مولوی صاحب اپنی موجودہ عمر اور جسمانی حالت کی نسبت بہتر معلوم ہوتے ہیں کمر سیدھی ہے اور چہرے پر طاقت اور نضارت کے آثار ہیں۔میں نے اس لفافہ کو لے کھولا اور دفتر کے پاس کی گلی سے ہوتا ہوا احمد یہ چوک کی طرف چل پڑا اندر سے دو کاغذ نکلے ایک وصیت کا کاغذ ہے جو سفید خوبصورت اور فل سکیپ سائز سے کوئی اڑھائی گنے بڑا ہے۔کاغذ موٹا اور اس طرح کا ہے جیسے بنک یا اشٹاموں کے کاغذ ہوتے ہیں اور ساتھ کاغذ حنائی فل سکیپ سائز کا ہے جس پر دفتر بہشتی مقبرہ کی کوئی رپورٹ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ کاغذ مولوی صاحب نے اس لئے پیش کیا ہے کہ میں کسی وفات یافتہ شخص کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کی منظوری دوں جب میں کاغذ کو دیکھنے لگا تو مولوی سرور شاہ صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں ان کے دفنانے کی اجازت کے متعلق یہ کاغذ ہے۔یہ بات سن کر مجھے اتنا صدمہ ہوا کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا آ گیا اور وصیت کے کاغذ پر جو در حقیقت ایک اس قسم کی سند معلوم ہوتی ہے جیسے حکومت کی طرف سے انعام کے طور پر سند ملا کرتی ہے) جو عبارتیں لکھی ہوئی ہیں میں ان کے پڑھنے کے قابل نہ رہا اسی وقت یکدم مولوی سرور شاہ صاحب غائب ہو گئے اور میری لڑکی امتہ القیوم مجھے معلوم ہوا جیسا کہ میرے پہلو میں کھڑی ہے۔میں نے اسے کہا کہ مجھے تو لفظ نظر نہیں آتے تم مجھے بتاتی جاؤ