رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 191
191 ہوں اور کہتا ہوں کہ تیرا فرض ہو گا کہ ان لوگوں کو سکھائے گا کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے سکھانے کا حکم دیتا ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کی اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی اور سب لوگوں کو اس ایمان کی طرف بلانے کی تلقین کرتا ہوں۔جس وقت میں یہ تقریر کر رہا ہوں (جو خود الہامی ہے) یوں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی توفیق دی ہے اور آپ فرماتے ہیں اَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پر ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ فرماتے ہیں اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ اس کے بعد ان کو اپنی طرف توجہ دلاتا ہوں چنانچہ اس وقت میری زبان پر جو فقرہ جاری ہوا یہ ہے وانا الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِيْلُهُ وَ خَلِيفَتُهُ اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں۔تب خواب میں ہی مجھ پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہوا اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اس وقت معاً میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں منیلہ میں اس کا نظیر ہوں۔اور اس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا اس کے مطابق اور اسے پورا کرنے کے لئے یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہوا اور مطلب یہ ہے کہ اس کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں میں بھی مسیح موعود ہوں کیونکہ جو کسی کا نظیر ہو گا اور اس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لے گاوہ ایک رنگ میں اس کا نام پانے کا مستحق بھی ہو گا۔پھر میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں۔میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں اور جب میں کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے لئے انیس سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عورتیں اور جو سات یا نو ہیں جن کے لباس صاف ستھرے ہیں دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں مجھے السلام علیکم کہتی ہیں اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لئے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں ”ہاں ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم انیس سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں اس کے بعد میں بڑے زور