رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 190

190 چلا جاتا ہے۔اتنے میں ہم جھیل پار کر کے دوسری طرف پہنچ گئے۔جب ہم جھیل کے دوسری طرف پہنچ گئے تو میں ان کو حکم دیتا ہوں کہ ان بتوں کو جیسا کہ پیشگوئی میں بیان کیا گیا تھا پانی میں غرق کر دیا جائے اس پر جو لوگ موقد ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی موحد تو نہیں ہوئے مگر ڈھیلے پڑگئے ہیں میرے سامنے جاتے ہیں اور میرے حکم کی تعمیل میں اپنے بتوں کو جھیل میں غرق کر دیتے ہیں اور میں خواب میں حیران ہوں کہ یہ تو کسی تیرنے والے مادے کے بنے ہوئے ہیں اور یہ اس آسانی سے جھیل کی تہہ میں کس طرح چلے گئے صرف پجاری پکڑ کر ان کو پانی میں غوطہ دیتے تھے اور وہ پانی کی گہرائی میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اس کے بعد میں کھڑا ہو گیا اور پھر انہیں تبلیغ کرنے لگ گیا کچھ لوگ تو ایمان لا چکے تھے مگر باقی قوم جو ساحل پر تھی ابھی ایمان نہیں لائی تھی اسی لئے میں نے ان کو تبلیغ کرنی شروع کر دی یہ تبلیغ میں ان کو عربی زبان میں ہی کرتا ہوں جب میں انہیں تبلیغ کر رہا ہوں تا کہ باقی لوگ بھی اسلام لے آئیں تو یکدم میری حالت میں تغیر پیدا ہوتا ہے اور مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب میں نہیں بول رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جارہی ہیں۔جیسے خطبہ الہامیہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا۔غرض میرا کلام اس وقت بند ہو جاتا ہے اور خد اتعالیٰ میری زبان سے بولنا شروع ہو جاتا ہے۔بولتے بولتے میں بڑے زور سے ایک شخص کو جو غالبا سب سے پہلے ایمان لایا تھا غالبا کا لفظ میں نے اس لئے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ وہی شخص پہلے ایمان لایا ہے ہاں غالب گمان یہی ہے کہ وہی شخص پہلا ایمان لانے والا یا پہلے ایمان لانے والوں میں سے بااثر اور مفید وجود تھا۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہے اور میں نے اس کا اسلامی نام عبد الشکور رکھا ہے۔میں اس کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ پیشگوئیوں میں بیان کیا گیا ہے میں اب آگے جاؤں گا اس لئے اے عبدالشکور ! تجھ کو میں اس قوم میں اپنا نائب مقرر کرتا ہوں تیرا فرض ہو گا کہ میری واپسی تک اپنی قوم میں توحید کو قائم کرے اور شرک کو مٹادے اور تیرا فرض ہو گا کہ اپنی قوم کو اسلام کی تعلیم پر عامل بنائے میں واپس آکر تجھ سے حساب لوں گا اور دیکھوں گا کہ تجھے میں نے جن فرائض کی سرانجام دہی کے لئے مقرر کیا ہے ان کو تو نے کہاں تک ادا کیا ہے اس کے بعد وہی الهامی حالت جاری رہتی ہے اور میں اسلام کی تعلیم کے اہم امور کی طرف اسے توجہ دلاتا