رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 192
192 سے کہتا ہوں میں وہ ہوں جسے علوم اسلام اور علوم عربی اور اس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔رویا میں جو ایک ایک سابق پیشگوئی کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی تھی اس میں یہ بھی خبر تھی کہ جب وہ موعود بھاگے گا تو ایک ایسے علاقہ میں پہنچے گا جہاں ایک جھیل ہوگی اور جب وہ اس جھیل کو پار کر کے دوسری طرف جائے گا تو وہاں ایک قوم ہوگی جس کو وہ تبلیغ کرے گا اور وہ اس کی تبلیغ سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جائے گی تب وہ دشمن جس سے وہ موعود بھاگے گا اس قوم سے مطالبہ کرے گا کہ اس شخص کو ہمارے حوالے کیا جائے مگر وہ قوم انکار کر دے گی اور کے گی ہم لڑ کر مر جائیں گے مگر اسے تمہارے حوالے نہیں کریں گے چنانچہ خواب میں ایسا ہی ہوتا ہے جرمن قوم کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم ان کو ہمارے حوالے کر دو اس وقت میں خواب میں کہتا ہوں یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے مگر وہ قوم باوجود اس کے کہ ابھی ایک حصہ اس کا ایمان نہیں لایا بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہرگز ان کو تمہارے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ہم لڑ کر فنا ہو جائیں گے مگر تمہارے اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے تب میں کہتا ہوں دیکھو وہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی اس کے بعد میں پھر ان کو ہدایتیں دے کر اور بار بار توحید قبول کرنے پر زور دے کر اور اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کے آگے کسی اور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم میں سے اور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں چنانچہ اسی لئے میں اس شخص سے جسے میں نے اس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے کہتا ہوں جب میں واپس آؤں گا تو اے عبدالشکور میں دیکھوں گا کہ تیری قوم شرک چھوڑ چکی ہے موحد ہو چکی ہے اور اسلام کے تمام احکام پر پابند ہو چکی ہے۔یہ وہ رویا ہے جو میں نے جنوری 1944ء (مطابق 1223 ھش) میں دیکھی اور جو غالباً پانچ اور چھ کی درمیانی شب بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات میں ظاہر کی گئی جب میری آنکھ کھلی تو میری نیند بالکل اڑ گئی اور مجھے سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ آنکھ کھلنے پر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا میں اردو بالکل بھول چکا ہوں اور صرف عربی ہی جانتا ہوں۔چنانچہ کوئی گھنٹہ بھر تک میں اس رویا پر غور کرتا اور سوچتا رہا مگر میں نے دیکھا کہ میں عربی پر ہی غور کرتا تھا اور اسی میں سوال و جواب میرے دل میں آتے تھے۔الفضل یکم فروری 1944ء صفحہ 1 تا 5۔مزید دیکھیں۔الفضل 16۔