روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 38 of 104

روشنی کا سفر — Page 38

16اپریل 1894ء کو اسی رمضان کے مہینے میں ہی سورج گرہن ہوا۔جبکہ اگلے سال رمضان کے مہینے میں ہی یہ نشان امریکہ اور اس کے ملحقہ ممالک میں ظہور میں آیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کر گیا۔آپ اپنے ایک منظوم کلام میں اسی نشان کے بارے میں فرماتے ہیں۔آسماں میرے لئے تو نے نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار عیسائیوں کی شکست ۳۹۔پادری عبداللہ ا عظم کا ذلت آمیز انجام الله عیسائیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود کا ایک طویل مباحثہ 22 مئی سے 5 جون 1893 ء تک امرتسر کے مقام پر ہوا۔اس مباحثے میں مسلمانوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود نمائندہ مقرر ہوئے اور عیسائیوں کی طرف سے ان کے مشہور عالم عبداللہ آ تم مقرر ہوئے۔حضور نے آنحضرت ﷺ کی صداقت اور قرآن اور دین حق کی سچائی کے زبر دست عقلی ونقلی دلائل دیئے۔اور عبداللہ آتھم کے پیش کردہ دلائل کو رڈ کرتے ہوئے دین کی صداقت کو ثابت کیا۔جو ” جنگ مقدس“ کے نام سے شائع ہوا۔اسی مباحثے کے آخری دن یعنی 5 جون 1893ء کو حضور نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر یہ ز بر دست پیشگوئی فرمائی کہ:۔’اس بحث میں دونوں فریقین میں سے جو فریق عملاً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ یر زبر دست پیشگوئی سن کر عیسائیوں کے دریدہ دہن عالم اور مباحثے میں حضور کے مقابل پر آنے والے پادری عبداللہ آ تم کا رنگ فق اور چہرہ زرد ہو گیا اور اس نے بلا توقف یہ اقرار کیا کہ تو بہ تو بہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی۔یہ مباحثہ تو ختم ہو گیا لیکن حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کا پادری عبداللہ اعظم پر بہت گہرا اثر ہوا۔اور اسے خدائی تصرف کے ماتحت مختلف خوفناک نظارے نظر آنے لگے جنہوں نے اسے دہلا کر رکھ دیا۔اور وہ گریہ وزاری پر مجبور ہو گیا دیگر پادریوں کے لئے یہ صورتحال بڑی پریشان کن تھے اس لئے انہوں نے پیشگوئی کی ہیبت کم کرنے کے لئے دن رات عبد اللہ آتھم کو شراب کے نشے میں مد ہوش رکھنا شروع کر دیا۔اس پندرہ مہینے کے میعاد میں آتھم نے دین کی مخالفت سے کلیتا کنارہ کشی کر لی اور یہ اقرار کر لیا کہ میں ان