روشنی کا سفر — Page 39
عیسائیوں کے ساتھ شامل نہیں ہوں جنہوں نے حضرت مرزا صاحب کے ساتھ کچھ بے ہودگی کی ہے۔پیشگوئی میں چونکہ یہ پہلو موجود تھا کہ اگر آ قم حق کی طرف رجوع کرے گا تو بچ سکتا ہے اس لئے اس کی عملی حالت نے بھی اور زبان نے بھی جب حق کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق یہ انذاری پیشگوئی ٹال دی۔اور آتھم بچ گیا۔ادھر یہ حال تھا اور دوسری طرف عیسائیوں اور مخالف مسلمان علماء نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ حضور کی پیشگوئی جھوٹی نکلی اور عبداللہ آ تم بچ گیا۔حضور نے فرمایا کہ میرے خدا نے الہاما مجھے بتایا ہے کہ آتھم نے حق کی طرف رجوع کر لیا تھا اور اس کے دل کے ہم و غم کی اطلاع دی گئی ہے اور پیشگوئی میں یہ شرط بھی تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کرے گا تو بچ جائے گالہذا خدا نے مجھے بتایا ہے کہ اس وجہ سے وہ بچ گیا ہے۔رہی یہ بات کہ کیا میری بات سچ ہے اور آتھم نے رجوع کر لیا تھا۔اس کا آسان فیصلہ ہے کہ آتھم قسم کھا لے کہ اس نے رجوع نہیں کیا تھا اگر وہ قسم کھا کر ایک سال تک زندہ رہا تو میں جھوٹا اور قسم کھانے کی صورت میں حضور نے اس کو چار ہزار روپے انعام پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا اس کو خدا کی قسم اور عیسائیت کی سچائی کی غیرت بھی دلائی لیکن اس کے تن مردہ میں جان نہ پڑ سکی۔ان تمام باتوں کے باوجود جب خاموشی اختیار کئے رکھی تو بالآخر حضور نے یہ آخری پیشگوئی فرمائی کہ اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیں تو ( ان کی ہلاکت کا ) وعدہ ایک سال کا قطعی یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر تم نہ بھی کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفاء کر کے دنیا کو دھوکہ دینا چاہا۔“ تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه 177) لیکن آتھم کو تم نہ کھائی تھی اس نے نہ کھائی اور بالآ خر حق کو چھپانے کے جرم کی پاداش میں 27 جولائی 1896ء کو فیروز پور میں وفات پا گیا۔اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے ۴۰۔قادیان میں لنگر خانہ پر لیں اور لائبریری کا آغاز حضرت اماں جان کے ساتھ حضرت اقدس کا نکاح 1884ء میں ہوا تھا۔اور در حقیقت اسی دور سے حضور کے گھر آنے