روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 37 of 104

روشنی کا سفر — Page 37

لئے تشریف لائیں۔حضرت اقدس نے اس دعوت کو بڑی خوشی سے قبول فرمالیا اور بالاخر مباحثے کے لئے 22 مئی سے 5 جون 1893ء کی تاریخیں مقرر ہو گئیں نیز طے ہوا کہ یہ مباحثہ امرتسر کے مقام پر ہوگا۔عیسائیوں کی طرف سے اس مباحثے کی تجویز در اصل ہنری مارٹن کلارک نے پیش کی تھی اسلئے وہ عیسائیوں کے نمائندہ تھے۔اور انہوں نے اپنے ساتھ عبداللہ آتھم کو بھی مباحثے میں شریک کرلیا تھا۔جو ان کے شدید اصرار پر بڑی مشکل سے حضرت اقدس کے مقابلے پر آنے کے لئے تیار ہوا تھا۔یہ مباحثہ تحریری تھا جس میں دونوں فریقوں کی طرف سے سوال اور جواب لکھ کہ پیش کئے جاتے تھے۔حضور کی طرف سے مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی یہ پرچے پڑھ کر سناتے تھے۔اس مباحثے کی ابتداء سے ہی حضرت اقدس مسیح موعود نے پادریوں کو لاجواب کر دیا اور عبداللہ ھم تو لا جواب ہو کر یہ لکھوانے پر مجبور ہو گیا کہ مسیح تمیں برس تک عام انسانوں کی طرح تھا پھر جب اس پر روح القدس نازل ہوا تو وہ مظہر اللہ کہلایا۔اس پر حضرت اقدس نے جواب لکھوایا کہ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ مسیح انسان اور نبی تھا۔اور جب کسی انسان پر روح القدس نازل ہوتا ہے تو وہ مظہر اللہ یعنی نبی بن جاتا ہے۔الوہیت مسیح پر لگنے والی یہ ضرب دیکھ کر عیسائیوں کے رنگ زرد ہو گئے اور انہوں نے آتھم صاحب سے کہا کہ یہ آپ نے کیا لکھوا دیا ؟ آتھم نے جواب دیا میں کیا لکھواتا۔جولکھوانا تھا سولکھوادیا۔میں بیمار ہوں مجھے چھوڑو میں جاتا ہوں تم جو چاہو کھواؤ۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس مباحثے میں عیسائیت کو شکست فاش دی اور یہ مقدس جنگ خدا تعالیٰ کے فتح نصیب جرنیل نے جیت اس عظیم الشان مباحثے کی مکمل روداد جنگ مقدس کے نام سے روحانی خزائن کی جلد نمبر 6 میں موجود ہے۔۳۸۔چاند اور سورج گرہن کا نشان آنحضرت ﷺ نے امام مہدی اور مسیح موعود کی سچائی کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی بیان فرمائی تھی کہ مسیح موعود کے وقت میں ایک ایسا عظیم نشان ظاہر ہو گا جو اس سے پہلے روئے زمین پر کسی دعویٰ کرنے والے کی سچائی کے اظہار کے لئے ظاہر نہیں ہوا۔اور وہ نشان یہ ہوگا کہ امام مہدی کے وقت میں رمضان کے مہینے میں چاند کو گرہن کی تاریخوں میں سے) پہلی تاریخ یعنی 13 رمضان کو گرہن لگے گا جبکہ سورج کو گرہن کی تاریخوں میں سے ) درمیانی تاریخ یعنی اٹھائیس تاریخ کو گرہن لگے گا۔حضور اکرم ﷺ کی یہ روایت حضرت امام باقر سے مروی ہے اور احادیث کی کتاب دار قطنی میں موجود ہے۔صداقت کی یہ علامت ایسی کڑی تھی کہ کوئی شخص منصوبہ کر کے اسے اپنے حق میں استعمال نہیں کر سکتا تھا۔اور پھر جب اللہ تعالیٰ کا سچا مہدی ظہور پذیر ہوا تو 1894ء میں یہ نشان بھی پوری صفائی کے ساتھ ظاہر ہو گیا۔چنانچہ اس پیشگوئی کے عین مطابق 20 مارچ 1894ء کو چاند گرہن اور صلى الله