روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 99 of 104

روشنی کا سفر — Page 99

رٹفیکیٹ کے لئے گئے۔( کیونکہ ریلوے قواعد کی رو سے کسی میت کو بذریعہ ریل لے جانے کے لئے ڈاکٹری سر ٹیفیکیٹ کی ضرورت تھی) بٹالہ کے لئے ریز روگاڑی کا انتظام کیا گیا۔اڑھائی بجے تک غسل اور کفن سے فراغت ہوگئی۔غسل دینے والے بھائی عبدالرحیم صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور ایک اور احمدی دوست تھے۔ایک کثیر جماعت نے جنازہ پڑھا اور اس کے بعد جوق در جوق احمدی اور غیر احمدی زیارت کے واسطے آتے رہے۔حضرت اقدس کا چہرہ مبارک نہایت منور تھا اور کسی قدر رسرخی بھی رخسار پر تھی۔چار بجے کے قریب پہلے مستورات اسٹیشن کی طرف روانہ ہوئیں بعد ازاں احمد یہ بلڈ کس سے چار پائی پر جنازہ اٹھایا گیا۔اسٹیشن پر پہنچ کر تابوت گاڑی میں رکھا گیا۔پونے چھ بجے کے قریب گاڑی لاہور سے بٹالہ کو روانہ ہوئی۔گاڑی میں جنازہ کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب۔حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے علاوہ حضرت اقدس کے بہت سے خدام تھے۔گاڑی لاہور سے امرتسر پہنچی تو یہاں سے بھی بہت سے احمدی دوست مثلا میاں نبی بخش صاحب سوداگر اور ڈاکٹر عبداللہ صاحب اور احباب کپورتھلہ شہر مثلاً حضرت منشی ظفر احمد صاحب جنازہ کے ساتھ ہوئے۔گاڑی رات دس بجے کے قریب بٹالہ پہنچی نعش مبارک ریز روڈ بہ میں ہی رہی جس کے پاس خدام موجودر ہے۔رات 2 بجے کے قریب احباب جنازہ کو شانہ بشانہ اٹھا کر قادیان کی طرف روانہ ہو گئے۔دیوانی والی کے تکیہ میں دوستوں نے صبح کی نماز ادا کی۔نہر کے پل کے قریب جماعت قادیان کے دوست بھی شامل ہوئے۔کوئی آٹھ بجے جنازہ قادیان پہنچا اور حضور کی نعش مبارک بہشتی مقبرہ سے ملحق باغ میں واقعہ پکے مکان میں رکھ دی گئی۔۹۷۔ایک حیرت انگیز واقعہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے ایام میں صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب جالندھر میں افسر مال کی حیثیت میں متعین تھے۔حضور کی وفات سے پیشتر آپ باہر اپنے حلقہ میں دورہ پر تھے۔دورہ ختم کر کے آپ واپس گھوڑے پر سوار جالندھر کی طرف تشریف لا رہے تھے کہ راستہ میں آپ کو یکا یک الہام ہوا ماتم پر سی“ آپ گہری سوچ میں پڑ کر بدستور چلتے چلے گئے کہ راستہ میں دوبارہ الہام ہوا۔اب خیالات بہت پراگندہ ہو گئے قیاس کیا کہ شاید تائی صاحبہ (حضرت مرزا غلام قادر صاحب کی اہلیہ محترمہ) کا انتقال ہو گیا ہومگر ابھی گھوڑے پر سوار چلے ہی تھے کہ تیسری مرتبہ پھر الہام ہوا ”ما تم پر سی“ جس پر آپ سخت خوفزدہ ہو گئے اور فورا گھوڑے سے اتر کر راستہ میں ہی زمین پر بیٹھ گئے اور سخت پریشانی میں سوچنے لگے کہ الہام کا مطلب کیا ہے۔آخر گہری