روشنی کا سفر — Page 100
سوچ بچار کے بعد دل میں یہ خیال آیا کہ خدا تعالی کی جانب سے ماتم پر سی ہو تو لازمی ہے کہ یہ کسی اعلی اور ارفع ہستی کی موت اور وصال سے وابستہ ہو۔اس خیال کا آنا تھا کہ آپ کو قطعی یقین ہو گیا کہ بس یہ حضرت والد صاحب (مسیح موعود ) کا ہی وصال ہے۔یہ خیال راسخ ہوتے ہی آپ پھر گھوڑے پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے اور اس غم وحزن کی حالت میں بجائے اپنے بنگلہ پر جانے کے سیدھے انگریز ڈپٹی کمشنر صاحب جالندھر کے بنگلہ کو تشریف لے گئے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات ہوئی تو ان کو اطلاع دی کہ میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے فور أرخصت دے دی جائے میں جارہا ہوں اور یہ بھی بتلایا کہ میں اس غرض سے دورہ سے سیدھا آپ کے بنگلہ پر آیا ہوں۔صاحب موصوف نے دریافت کیا کہ کیا والد صاحب کی وفات کی خبر آپ کو راستہ میں ملی ہے یا کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے یا کوئی آدمی آیا ہے۔مگر آپ نے جواب دیا کہ نہ کوئی تار آیا ہے نہ کوئی آدمی اور نہ کسی اور ذریعہ سے اطلاع ہوئی ہے صرف خدائی تار آیا ہے اور صاحب موصوف کے دریافت کرنے پر آپ نے راستہ کا تمام ماجرا سنایا تو صاحب کو بہت حیرت ہوئی کہ اس پر اتنا یقین کر لیا اور کہا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے یونہی آپ کو وہم ہو گیا ہے آپ اطمینان رکھیں ایسا کوئی حادثہ نہیں ہوا ہے۔آپ رخصت کے لئے جلدی نہ کریں اور گھبرائیں نہیں لیکن آپ بدستور اپنے یقین کامل سے رخصت پر مصر رہے مگر صاحب بہادر کے اصرار پر اپنے بنگلہ پر واپس تشریف لے آئے۔تھوڑی دیر بعد ہی آپ کو حضرت اقدس علیہ السلام کی وفات کا تاربھی موصول ہو گیا۔چنانچہ آپ وہ تارلے کر صاحب کے بنگلہ پر دوبارہ گئے اور بتلایا کہ اس وقت میں دورہ سے سیدھا آپ کے بنگلہ پر آ گیا تھا وہ خدای اطلاع کی بناء پر تھا۔اب یہ تار بھی آ گیا ہے صاحب بہادر یہ کیفیت دیکھ کر بہت ہی حیران اور ششدر رہ گئے کہ آپ لوگوں کو خدا پر کیسا یقین اور وثوق اور ایمان ہے اور صاحبزادہ صاحب کو رخصت دے دی۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف فوراً قادیان روانہ ہو گئے۔جب آپ جالندھر سے امرتسر پہنچے تو اسٹیشن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنازہ پہنچ چکا تھا۔روشنی کی نئی کرن ۹۸۔قدرت ثانیہ کا ظہور نعش مبارک کے قادیان پہنچنے کے بعد سب سے پہلا کام جو سلسلہ کے مقتدر بزرگوں نے اس وقت کیا وہ جانشین یعنی خلیفہ المسيح کا انتخاب تھا۔چنانچہ جماعت کے دوست اکٹھے ہوئے اور مشورہ ہوا تو سب کی نظریں حضرت مولوی نورالدین صاحب کی طرف اٹھیں چنانچہ متفقہ فیصلہ ہو چکا تو اکا بر سلسلہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مکان پر حاضر ہوئے اور مناسب رنگ میں بیعت خلافت کے لئے درخواست پیش کی۔آپ نے کچھ تردد کے بعد فرمایا ”میں دعا کے بعد جواب دوں گا چنانچہ وہیں پانی منگایا گیا آپ نے وضو کیا نماز نفل ادا کی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا چلو ہم سب و ہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسدِ