روشنی کا سفر — Page 98
حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ عقیدت رکھنے والے عشاق جو جماعت کی ذمہ داری کو سمجھتے اور وقت کی نزاکت کو پہچانتے تھے اپنے دلوں کے جذبات کو روکے ہوئے تھے اور چشم پر آب ہونے کے باوجود انہوں نے اس وقت صبر وتحمل کا قابل رشک نمونہ دکھایا۔بالخصوص حضرت اقدس کے اہل نے اس عظیم ترین صدمہ میں جس رضا بالقضاء کا ثبوت دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی کے آخری لمحات کے وقت حضرت اماں جان نے بجائے دنیا دار عورتوں کی طرح رونے چیخنے اور بے صبری کے کلمات منہ سے نکالنے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے حضور گر کر سجدہ میں نہایت عجز وانکسار کے ساتھ دعائیں مانگنے کا پاک نمونہ دکھایا۔جب اخیر میں سورۃ یس پڑھی گئی اور حضور کی روح مقدس قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی تو حضرت اماں جان نے فرمایا۔” ہم خدا کے ہیں اور اسی کے طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ اور بس خاموش ہو گئیں۔کسی قسم کا جزع فزع نہیں کیا۔اندر بعض مستورات نے رونا شروع کیا تو آپ نے ان عورتوں کو بڑے زور سے جھڑک دیا اور کہا کہ میرے تو خاوند تھے میں نہیں روتی تم رونے والی کون ہو۔صبر و استقلال کا نمونہ ایک ایسی پاک عورت سے جو ناز و نعمت میں پلی ہو اور جس کا ایسا روحانی بادشاہ اور ناز اٹھانے والا مقدس خاوند انتقال کر جائے ایک زبر دست اعجاز تھا۔یہی نہیں حضرت اماں جان نے حضور کی وفات کے وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے انہیں ان الفاظ میں نصیحت بھی فرمائی۔بچو گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتارہے گا۔“ آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس موقعہ پر نہ صرف صبر کا عدیم النظیر نمونہ دکھایا بلکہ سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا کہ۔اگر سارے لوگ بھی آپ کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پروا نہیں کروں گا۔-۹۶۔جسدِ مبارک۔لاہور سے قادیان حضور کا وصال ساڑھے دس بجے کے قریب ہوا تھا۔انتقال کے معمولی وقفہ کے بعد لاہور میں تمام موجود احمدی یکے بعد دیگرے آئے اور حضور اقدس کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیتے گئے۔کچھ دیر کے بعد حضور کے خدام ذرا باہر بیٹھے اور شیخ رحمت اللہ صاحب خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب لاہور کے سول سرجن کے