روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 93 of 104

روشنی کا سفر — Page 93

حضور لا ہور تشریف لے جانے میں بہت متامل تھے۔قادیان سے روانگی لیکن خدائی تقدیر چونکہ یہی تھی اس لئے حضور علیہ السلام 27 اپریل 1908ء کی صبح قادیان سے بٹالہ روانہ ہو گئے۔حضور کے ہمراہ اس سفر میں گیارہ افراد تھے۔روانگی سے قبل حضرت اقدس علیہ السلام نے وہ حجرہ بند کیا جس میں آخری عمر میں حضور تصنیف فرمایا کرتے تھے۔حضور نے حجرہ بند کرتے ہوئے کسی کو مخاطب کرنے کے بغیر فرمایا:۔اب ہم اس کو نہیں کھولیں گے۔“ بٹالہ پہنچے تو خلاف توقع ریز روگاڑی نہ مل سکی۔حضور اقدس نے ریز روگاڑی کے انتظار میں ایک روز بٹالہ قیام فرمایا۔اور 29 اپریل 1908ء کو بٹالہ سے گاڑی میں سوار ہوئے۔گاڑی امرتسرسٹیشن پر پہنچی تو مخلصین امرتسر نے حضور سے مصافحہ کیا۔اس وقت جذب و کشش کا یہ عالم تھا کہ اسٹیشن پر جس انسان کے کان میں آپ کا نام پہنچا شوق زیارت میں بھاگا چلا آیا۔اسی اثناء میں ایک معزز غیر احمدی دوست چند ا حباب کے ساتھ تشریف لائے۔حضرت اقدس نے ان کو گاڑی کے اندر بلا کر بٹھالیا اور نہایت محبت بھرے الفاظ میں ان کو مسئلہ وفات مسیح کے بارے میں قرآنی شہادت پیش فرمائی۔جب تک گاڑی اسٹیشن پر رکی رہی حضور گفتگو فرماتے رہے۔یہاں تک کہ گاڑی روانہ ہوئی اور حضور بالآخر بخیریت لاہور پہنچ گئے۔۹۱۔لاہور کے رؤسا کو دعوت حق 17 مئی 1908ء کا دن قیام لاہور کے عرصہ میں ایک یادگار دن تھا کیونکہ اس روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کے مطابق لاہور کے عمائدین و رؤسا کو کھانے پر مدعو کیا گیا۔حضور کی طبیعت 16 مئی کی شب کو اسہال کے باعث بہت ناساز ہوگئی تھی اور یہ امید نہ رہی تھی کہ حضور خود تقریرفرما سکیں گے چنانچہ اسی خیال سے حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو ارشاد فرمایا کہ معزز مہمانوں کو کچھ سنا دیں اور انہوں نے تقریر شروع بھی کر دی تھی مگر صبح کو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی۔۔چنانچہ حضور وعدہ الہی کے مطابق غیبی طاقت وقوت پا کر بنفس نفیس تشریف لے آئے اور 11 بجے سے ایک بجے بعد دو پہر تک بڑی پرزور اور مؤ ثر تقریرفرمائی۔بارہ بجے حضور نے فرمایا اگر آپ چاہیں تو میں تقریر بند کر دوں آپ کھانا کھالیں۔مگر تمام معزز سامعین نے یک زبان ہو کر عرض کیا کہ نہیں آپ تقریر جاری رکھیں وہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں مگر یہ روحانی غذا پھر کہاں میسر آئے گی۔الغرض ایک بجے کے بعد حضور کی یہ پر معارف تقریرختم ہوئی۔اس تقریر میں حضور نے صوبہ کے صدر مقام لاہور کے معز زمسلمانوں اور تعلیم یافتہ رؤساء پر