روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 92 of 104

روشنی کا سفر — Page 92

سچائی کے دلائل کیا ہیں؟ حضور علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ خود آپ کا اتنے دور دراز ممالک سے یہاں ایک چھوٹی سی بستی میں آنا بھی ہماری صداقت کی ایک بھاری دلیل ہے کیونکہ ایسے وقت میں جبکہ ہم بالکل گمنامی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا یـاتــون مـن كل فج عميق و يا تيك من كل فج عمیق یعنی اس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہو جائیں گے اور خدا کی مدد ایسے راستوں سے آئے گی کہ وہ لوگوں کے بہت چلنے سے گہرے ہو جائیں گے سیاح نے سوال کیا کہ آپ کے آنے کا مقصد کیا ہے؟ حضور نے مفصل جواب دیا۔اس گفتگو کے بعد ان کے سامنے کھانا رکھا گیا۔اس دوران انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے پوچھا کہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد کیا ہوگا۔مفتی صاحب نے کہا۔”وہ ہو گا جو خدا کو منظور ہوگا اور جو ہمیشہ کی موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔“ کھانے کے بعد یہ لوگ مدرسہ تعلیم الاسلام میں گئے جہاں ایک طالبعلم نے سورہ مریم کی ابتدائی آیات نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں جسے سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔۹۰۔حضرت اقدس کا آخری سفر لاہور چشمہ معرفت کی اہم تصنیف اور دوسرے مسلسل علمی و دینی مشاغل کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کی صحت پر بہت اثر پڑا تھا۔مزید برآں حضرت اماں جان کی طبیعت بھی ان دنوں ناساز تھی اور ان کی خواہش تھی کہ بغرض علاج لا ہور جانا چاہئے۔حضور نے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے فرمایا کہ مجھے ایک کام در پیش ہے دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔چنانچہ انہوں نے رویا میں دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو! اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں۔۔دوسرے دن حضرت سیدہ موصوفہ نے حضور کو یہ خواب سنائی تو حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا:۔” یہ خواب اپنی اماں کو نہ دو سنانا اس خواب کے علاوہ 26 اپریل 1908ء بوقت چار بجے صبح یعنی تیاری سے صرف ایک روز قبل خود حضرت اقدس علیہ السلام پر بھی الہام ہوا:۔مباش ایمن از بازی روزگار ان آسمانی خبروں کی بناء پر حضور کو احساس ہو چکا تھا کہ اس سفر میں حضور کو سفر آخرت بھی پیش آنے والا ہے اور اسی لئے